صوبائی منیجر بلوچستان ٹی بی کنٹرول پروگرام ڈاکٹر شیر افگن رئیسانی نے عالمی یومِ ٹی بی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایات،وزیر صحت بخت محمدکاکڑ اور سیکرٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی کی سرپرستی میں ٹی بی کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کئے جارہے ہیں ، ہر فرد تک بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت پہنچائیں گے تاکہ ایک صحت مند اور محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔بلوچستان کے جیلوں کے اندر قیدیوں اور عملے کی جامع ہیلتھ اسکریننگ مہم ایک تاریخی اقدام ہے، جس نے نہ صرف ٹی بی بلکہ دیگر متعدی اور غیر متعدی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کو ممکن بنایا۔محکمہ صحت بلوچستان، بلوچستان ٹی بی کنٹرول پروگرام، محکمہ جیل خانہ جات اور دوپاسی فانڈیشن نے مشترکہ کاوشوں سے صوبے کی تمام 12 جیلوں میں ایک مربوط اسکریننگ مہم کامیابی سے مکمل کی۔انہوں نے کہاکہ سال 2025ء کے دوران بلوچستان کے 12جیلوں میں 3ہزار قیدیوں میںمتعدی وغیرمتعدی امراض کی اسکریننگ کی گئی ،مہم کے دوران ایچ آئی وی کے8کیسز مثبت، ہیپاٹائٹس بی کا61اورہیپاٹائٹس سی کا92کیسز مثبت آئے ،جیلوں میں رہنے والی بالغ آبادی میں ہائی بلڈ پریشر 30.9 فیصد، بلند شوگر 22.2 فیصد، جبکہ اوور ویٹ اور موٹاپا 31 فیصد افراد میں پایا گیا ٹی بی پروگرام کے ذریعے صوبے کے 250 سینٹرز میں ٹی بی کے مریضوں کی مفت تشخیص کا سلسلہ جاری ہے ،اسی طرح بلوچستان کے 20اضلاع میں حکومت اور نجی شعبے کے تعاون سے 650ڈاکٹرز پرائیویٹ ہسپتالوں میں ٹی بی کی تشخیص اور علاج یقینی بنا رہی ہے ،صوبے کے مختلف اضلاع میں100سے زائد جدید ایف ایم مائیکروسکوپ مہیا کئے گئے ،بلوچستان میں 30عدد آرٹیفیشل انٹیلی جنس ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں مہیا کی گئی ہے تاکہ ہسپتالوں میں ٹی بی کی اسکریننگ کو جدید بنایاجاسکے،ٹی بی کی خطرناک قسم رزیسٹنس ٹی بی کی علاج کے مراکز کو3سے بڑھا کر 11تک کردی گئی ہے ،انہوں نے کہاکہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات، وژن اور خصوصی دلچسپی کے ساتھ ساتھ صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی بھرپور سرپرستی بلوچستان میں جیلوں میں صحت کے شعبے میں ایک تاریخی اور جامع مہم اس وقت مکمل کرلی گئی ہے۔ حکومت بلوچستان محکمہ صحت اور بلوچستان ٹی بی کنٹرول پروگرام نے پہلی مرتبہ صوبے کی 12 جیلوں میں ایک مربوط، منظم اور ہمہ جہتی صحت اسکریننگ پروگرام شروع کیا، جس کا مقصد قیدیوں، جیل عملے اور متعلقہ سکیورٹی فورسز کو متعدی اور غیر متعدی دونوں قسم کی بیماریوں کے لیے معیاری تشخیص اور علاج سے جوڑنا تھا۔ یہ اقدام عوامی صحت کو مضبوط بنانے کا ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوا ہے، کیونکہ جیلوں جیسے بند ماحول میں بیماریوں کا پھیلا تیز ہوتا ہے اور وہاں صحت خدمات کی رسائی عمومی آبادی کے مقابلے میں محدود رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ ٹی بی ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ٹی بی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں اور ہر فرد تک بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت پہنچائیں تاکہ ایک صحت مند اور محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
Comments 0