اسلام آباد۔ (اے پی پی):دفتر خارجہ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کی معاونت کرنے والے مراکز کیخلاف پاکستان کی جائز کارروائیوں کیخلاف بھارت کے موقف کو مضحکہ خیز اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں افغان سر زمین سے سرگرم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی تباہی پر بھارت کی مایوسی قابل فہم ہے ، بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے سے باز رہے۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان پر ردعمل کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کے جواب میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کی معاونت کرنے والے مراکز کے خلاف پاکستان کی جائز، ٹارگٹڈ اور متعین کارروائیوں کے بارے میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے ریمارکس نہ صرف مضحکہ خیز اور بلاجواز بلکہ انتہائی منافقانہ بھی ہیں۔افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان شامل ہیں، کی بھارت کی جانب سے فعال حمایت اور سرپرستی ایک معلوم حقیقت ہے۔
لہٰذا افغانستان میں اپنے دہشت گرد نیٹ ورک کی تباہی پر بھارت کی مایوسی، جیسا کہ اس طرح کے بیانات سے ظاہر ہوتی ہے، قابلِ فہم ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے، اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اس علاقے میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ کے زیرِ اثر بھارت اپنے ملک میں اقلیتوں کو منظم انداز میں انکے حقوق سے محروم کر رہا ہے، اسلاموفوبیا کو فروغ دے رہا ہے ، یہاں تک کہ اپنے معاہداتی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی کو بھی بطور ہتھیار استعمال کر چکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں تخریب کار کردار ادا کرتا رہا ہے۔
ایسے شرمناک ریکارڈ کے ساتھ بھارت کو اس قسم کے بیانات دینے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ اسے چاہیے کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر دہشت گردی بھڑکانے کے لیے استعمال کرنے سے باز رہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنی جانب سے بین الاقوامی قانون، بشمول اقوام متحدہ کے منشور، کے مطابق اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر مناسب اقدام کرنے کے عزم پر قائم ہے
Comments 0