بلوچستان: عورت فاؤنڈیشن بلوچستان نے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پروگرام “بلوچستان میں صنفی مساوات کے فروغ کے ذریعے صنفی حساس انصاف کو مضبوط بنانے” (UN Women اور جرمن ایمبیسی کے مالی تعاون سے) کے تحت صوبے کے دو اضلاع لورالائی اور سبی میں تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی کھلی کچہریاں (Public Hearings) منعقد کیں۔
لورالائی کی کھلی کچہری ڈپٹی کمشنر آفس لورالائی میں منعقد ہوئی، جبکہ سبی کی کھلی کچہری سرکٹ ہاؤس سبی میں منعقد کی گئی، جس میں مجموعی طور پر 280 سے زائد خواتین نے بھرپور شرکت کی۔
یہ دونوں پروگرام اپنے نوعیت کے اعتبار سے انتہائی اہم قرار پائے، خاص طور پر دونوں اضلاع می پہلی بار اس سطح کی کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا جو خواتین کے مسائل کے فوری حل کی جانب ایک تاریخی قدم ثابت ہوا۔
ان کھلی کچہریوں کا بنیادی مقصد خواتین کو ایک محفوظ، باوقار اور قابلِ اعتماد پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں وہ بغیر کسی خوف یا جھجھک کے اپنے مسائل، شکایات، تجربات اور تجاویز براہِ راست متعلقہ سرکاری اداروں اور افسران تک پہنچا سکیں۔ ان فورمز کے ذریعے خواتین کو نہ صرف قانونی حقوق اور صنفی انصاف کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی بلکہ انہیں موقع پر ہی عملی معاونت اور سرکاری محکموں تک براہِ راست رسائی بھی دی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد خواتین نے اپنے مسائل کے حل کے لیے درخواستیں جمع کروائیں۔
لورالائی میں منعقدہ کھلی کچہری کی سرپرستی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نور علی کاکڑ نے کی۔ اس موقع پر مختلف محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی جن میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالرزاق، الیکشن کمیشن کے عبدالرحمن، نادرا سے جلال خان، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ظفر حیات، پولیس ڈیپارٹمنٹ سے زہرا، پی پی ایچ آئی سے اختر محمد، اور عورت فاؤنڈیشن کی پروجیکٹ کوآرڈینیٹر یاسمین مغل شامل تھیں۔ ان محکموں کے تمائندون نے خواتین کے مسائل تفصیل سے سنے اور انہیں حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
سبی میں کھلی کچہری پہلی مرتبہ اس سطح پر سرکٹ ہاؤس میں منعقد کی گئی، جس کی سربراہی ڈی آئی جی پولیس سبی ڈویژن برکت حسین کھوسہ نے کی۔ اس کے علاوہ مختلف سرکاری محکموں اور اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی جن میں سوشل ویلفیئر کے ڈویژنل ڈائریکٹر امجد لاشاری، بے نظیر ویمن کرائسس سینٹر کی انچارج رخشندہ کوکب، نادرا کے سید مصطفیٰ شاہ، الیکشن کمیشن کے شمس، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے تحصیلدار ذاکر علی، خواتین پولیس اسٹیشن کی ایس ایچ او حسینہ اختر، وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی راج بی بی ایڈووکیٹ، سوشل ویلفیئر آفیسر امینہ بی بی، وفاقی محتسب کے محمد امین مگسی ایڈووکیٹ، صوبائی محتسب کے محر اللہ، محکمہ صحت کی ڈاکٹر رخسانہ، محکمہ تعلیم کی راحین، سیشن کورٹ کے سید فرید شاہ، بے نظیر انکم سپورٹ سینٹر کے مجیدی صاحب، عورت فاؤنڈیشن کی فریال احمد اور فاطمہ جہانزیب ایڈووکیٹ شامل تھیں۔ افسران نے بڑی تعداد میں آنے والی خواتین کی شکایات اور مسائل سنے اور موقع پر ہی ان کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے۔
عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ یہ کھلی کچہریاں بلوچستان میں خواتین کی انصاف تک رسائی کو مضبوط بنانے، صنفی حساس انتظامی نظام کو فروغ دینے اور حکومتی و ادارہ جاتی سطح پر مؤثر پالیسی سازی کے لیے اہم کردار ادا کریں گی۔ ان پروگراموں نے خواتین کو نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ انہیں اپنے مسائل براہِ راست پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کیا، جو کہ صنفی مساوات کے فروغ کا عملی ثبوت ہے۔
“لورالائی اور سبی میں ان کھلی کچہریوں کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سرکاری ادارے، سول سوسائٹی اور ضلعی انتظامیہ ایک ہی مقصد کے لیے اکٹھے ہوں، تو خواتین کے مسائل کا مؤثر حل ممکن ہے۔ عورت فائونڈیشن کے نمائندوں نے کہا کہ اگر سرکاری محکمے ہر ماہ اس طرح کی کھلی کچہریاں منعقد کرتے رہے تو خواتین کے مسائل کا حل ان کے گھروں کی دہلیز تک فراہمی ممکن ہو سکے گی اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھیں جائے تو بلوچستان کی خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کی آواز کو پالیسی تک پہنچایا جا سکے گا۔
Comments 0