اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد ڈاکٹروں میں سے صرف 56 ہزار نے اپنے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کروائے ہیں، جبکہ 73 ہزار سے زائد ڈاکٹروں نے تاحال ریٹرنز فائل ہی نہیں کیے۔
ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ریٹرنز فائل کرنے والے 56 ہزار ڈاکٹروں میں سے 31 ہزار سے زائد نے اپنی آمدن صفر ظاہر کی، 360 ڈاکٹروں نے نقصان ظاہر کیا، جبکہ 24 ہزار 137 ڈاکٹروں نے اپنے کاروبار سے ہونے والی آمدن ظاہر کی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ متعدد ڈاکٹرز نے اپنی نجی پریکٹس سے صفر آمدن یا نقصان ظاہر کیا ہے، حالانکہ ان کے نجی کلینکس میں مریضوں کی خاصی تعداد موجود ہوتی ہے۔ ایف بی آر کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں ڈاکٹرز ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں اور اپنی اصل آمدن چھپا رہے ہیں۔
ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ ایسے ڈاکٹروں کو آڈٹ اور انکم ٹیکس قوانین کے دائرے میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں ادارے نے حالیہ دنوں میں ان ڈاکٹرز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں جو اپنی آمدن ظاہر نہیں کرتے یا کم ظاہر کرتے ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ٹیکس وصول کرنے والے ادارے نے ڈاکٹرز، نجی کلینکس اور نجی ہسپتالوں میں ٹیکس چوری کی تحقیقات تیز کرتے ہوئے انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
Comments 0