لاہور۔24مارچ (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ کے منی لانڈرنگ کیس میں سپیشل سینٹرل عدالت کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کا عائد اعتراض برقرار رکھتے ہوئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ کوئی بھی شخص کئی سال بعد آ کر عدالتی فیصلوں کو چیلنج نہیں کر سکتا اور نہ ہی عدالت اس مقصد کے لیے کوئی نیا قانون بنا سکتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضی نوٹ کے ساتھ ابتدائی سماعت کی۔رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض عائد کیا تھا کہ درخواست کئی سالوں بعد دائر کی گئی ہے اور درخواست گزار متاثرہ فریق بھی نہیں ہے ،لہذا یہ درخواست ناقابل سماعت ہے ، دائر درخواست میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی 16ارب روپے منی لانڈرنگ کے مقدمہ سے بریت کو چیلنج کیا گیا تھا اور موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 12 نومبر 2022 کو سپیشل سنٹرل کورٹ نے فردِ جرم عائد ہونے سے قبل ہی انہیں بری کر دیا، جو قانون اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے ،منگل کو سماعت پر درخواست گزار ایڈووکیٹ وشال احمد شاکر کے وکیل سینئر قانون دان عامر سعید راں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار پہلے دفتری اعتراض پر دلائل دے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آیا مقدمے میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے تھے، جس پر وکیل نے بتایا کہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں ہوئے تھے ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 2022 میں ہونے والی بریت کو چیلنج کرنے میں تاخیر کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ محض اس بنیاد پر کہ بعد میں کسی وکیل کو کیس پڑھ کر نئے نکات معلوم ہوں، پرانے فیصلوں کو دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔
Comments 0