اسلام آباد (اے پی پی):قومی اسمبلی میں ایران پر امریکا اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف بحث بدھ کو مسلسل دوسرے روزبھی جاری رہی، مختلف جماعتوں کے اراکین نے ایران پر جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے علی خامنہ ای کی شہادت پرافسوس کااظہارکیا، اراکین نے جنگ کے خاتمہ اورامن کے قیام کیلئے پاکستان ترکیہ اورملائیشیا کے موثرکردارکی ضرورت پربھی روشنی ڈالی۔ پی پی پی کے مرزا اختیار بیگ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ جب پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا تو اسرائیل نے پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا کہ پاکستان عرب اوراسلامی ممالک کوایٹمی شیلڈ فراہم کررہاہے، مودی نے اسرائیل کادورہ کیا تواس میں فیصلہ ہوا کہ طالبان کوپاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے،موساد اوررا مل کر کام کر رہے ہیں، ان واقعات کے تسلسل میں ایران پرحملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان،روس،چین ،ترکیہ اوراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو جنگ اور کشیدگی کے خاتمہ کیلئے اپناکرداراداکرنا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ آگ بڑھتی جارہی ہے،پاکستان کواس کی تپش سے نقصان ہوگا، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوچکاہے،اس صورتحال کے تناظرمیں جنگ کے خاتمہ کیلئے اسرائیل اورایران دونوں پر پردباؤ ڈالاجائے۔اسامہ حمزہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ طاغوتی طاقتیں ایران پرحملہ آورہے، ان طاقتوں نے اسلامی ممالک میں گزشتہ کئی برسوں سے کئی جنگیں مسلط کی ہے،عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے الزامات پرحملہ کیاگیا مگروہ دعویٰ جھوٹا نکلا۔انہوں نے کہاکہ ایران کی حکومت اورعوام طاغوتی طاقتوں کے خلاف کھڑے ہیں،شہید خامنہ ای نے اطاعت کی بجائے شہادت کاراستہ اپنایا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان،ترکی، ملائیشیا کوروس اور چین کے ساتھ مل کرکام کرنا ہوگا۔پی ایم ایل (ن )کے شیخ آفتاب نے کہاکہ اسرائیل نے پہلے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی شروع کی جس کے بعدامریکا کے ساتھ مل کراس نے ایران اور دیگر ممالک کے خلاف بھی کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایران پراسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے،یہ افسوسناک واقعہ اوردوسراکربلا ہے،تاریخ میں ایران کے ان شہداء کویادرکھا جائیگا،گریٹراسرائیل کے قیام کیلئے مسلمانوں کاخون بہایا جا رہاہے، بھارت افغانستان کے ساتھ مل کرپاکستان پر حملہ آورہے۔ انہوں نے کہاکہ جنگ کے خاتمہ اورامن کی بحالی کیلئے پاکستان اپناکرداراداکررہاہے۔ایم کیوایم پاکستان کے ڈاکٹرفاروق ستارنے کہاکہ وزیراعظم محمدشہبازشریف اورنائب وزیرخارجہ نے آج ان کیمرہ اجلاس میں قومی زعماء کو صورتحال سے تفصیلی آگاہ کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم تاریخ کے اہم موڑپرکھڑے ہیں، ہم نے معاشی استحکام اورترقی کاسفرابھی شروع ہی ہے، گزشتہ سال معرکہ حق میں کامیابیوں سے ہماراسرفخر سے بلندہواہے، ہمیں احتیاط سے کام لیتے ہوئے ایک تنے ہوئے رسے پرچل کرتوازن کوقائم کرناہوگا۔انہوں نے کہاکہ اسرائیل نے توسیع پسندانہ کارروائی کرتے ہوئے ایران پرحملہ کیاہے، امام علی خامنہ ای کی شہادت ایک بڑاسانحہ اورالمیہ ہے۔
فاروق ستارنے کہاکہ ہمیں بردبادی کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں کوآگے بڑھانا ہوگا۔پی پی پی کی شاہدہ رحمانی نے کہاکہ شہید امام علی خامنہ ای کی شہادت نے واقعہ کربلا کی یادتازہ کردی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایران میں رجیم کی تبدیلی کے اسرائیلی اور امریکی عزائم کو کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج ہرآنکھ اشکبار اوردل زخمی ہیں تاہم حوصلے بلند ہیں،پوری قوم متحد ہے اورافغانستان کوبھارت کی طرح عبرتناک شکست ہو گی، پاکستان کی سلامتی اورخطہ میں امن ضروری ہے،ہم دشمنوں کومل کرشکست دیں گے۔اقبال آفریدی نے کہاکہ واقعہ کربلا ہمیں ظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کادرس دیتا ہے، ایران پر حملہ ہمیں ایران کے ساتھ ڈٹ کرکھڑے کرنے کادرس دے رہاہے۔امریکا اور اسرائیل نے پہلے غزہ میں مسلمانوں کاقتل عام کیا اوراب ایران پر حملہ آورہے، پوری اسلامی دنیا کی آنکھیں پاکستان کی جانب ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایران کے عوام متحدہیں ہم ایران کے عوام کے ساتھ ہیں۔
شبیربجارانی نے کہاکہ ایران کے سپریم لیڈر86سالہ بزرگ رہنماتھے اور ایران کیلئے ان کی طویل خدمات تھیں،وہ ایسے انسان تھے جونہ جھکے اورنہ بکے۔انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ حق کی راہ میں اپنی جانیں قربان کی۔ انہوں نے کہاکہ ایران اورمشرق وسطیٰ جل رہاہے اورباقی اسلامی ممالک تماشا دیکھ رہے ہیں،شہید ذوالفقارعلی بھٹونے او آئی سی کے تحت مسلم امہ کے اتحادکی بنیاد رکھی تھی اور ان کوششوں پر انہیں شہید کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام اورسیاسی جماعتیں ایران کی حکومت اورعوام کے ساتھ کھڑی ہیں۔
نعیمہ کشورنے کہاکہ ایران کی صورتحال پر پارلیمانی رہنمائوں کیلئے ان کیمرہ بریفنگ خوش آئند ہے تاہم تمام اراکین پارلیمان کیلئے بھی ان کیمرہ بریفنگ کااہتمام ہونا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ حالیہ جنگ کے اثرات صرف ایران پرنہیں بلکہ پورے خطہ کے اسلامی ممالک پر مرتب ہوں گے،یہ جنگ علاقائی سالمیت کے خلاف ہے، پاکستان کوجنگ کے خاتمہ اورامن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، تیل کی قیمتیں بڑھنے سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطہ کی معیشت متاثرہوگی۔
Comments 0