وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایچ آئی وی کی شرح 0٫5 فیصد جبکہ پاکستان میں 0٫1 فیصد ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نام پر فنڈز کی پوچھ گچھ ہونی چاہئے، 37 ہزار 944 لوگوں کی اسکریننگ کی گئی، ایچ آئی وی کے 6 ہزار 910 کیسز مثبت آئے، گزشتہ سال 49 ٹریٹمنٹ سینٹرز بڑھ کر 97 ہوگئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کی ادویات حکومت کی طرف سے مفت ہیں، ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے، ایچ آئی وی کیلئے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے، ایچ آئی وی پروگرام کیلئے 65 ملین ڈالر میں سے 3.9 ملین ڈالر ملے، یہ رقم چاروں صوبوں میں تقسیم کی گئی۔
وزیر صحت نے کہا کہ 2025ء میں ایچ آئی وی کے 14 ہزار 182 کیسز سامنے آئے، تونسہ میں رواں سال ایچ آئی وی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جس کیس کا ذکر کیا جارہا ہے وہ 2024 کا ہے، اسلام آباد میں بھی رواں سال ایچ آئی وی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایچ آئی وی کی شرح 0.5 فیصد ہے، پاکستان میں ایچ آئی وی کی شرح 0.1 فیصد ہے، پاکستان میں گلوبل فنڈ کے 8 لاکھ ڈالر کی مچھر دانیاں چوری ہوگئیں، 8 لاکھ مچھر دانیاں کہاں گئیں، مجھے عالمی فورم پر شرمندگی ہوئی۔
Comments 0