سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے این 45 منصوبے میں کنسلٹنٹس کی عدم شمولیت پر این ایچ اے کی مالی بولی روک دی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے این 45 منصوبے میں کنسلٹنٹس کی عدم شمولیت پر این ایچ اے کی مالی بولی روک دی
اسلام آباد۔ (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے این 45 منصوبے میں کنسلٹنٹس کی عدم شمولیت پر این ایچ اے کی مالی بولی روک دی، کمیٹی نے جامشورو پاور پراجیکٹ میں مشین مرمت کیس پر 2 کروڑ روپے کی ریکوری کا حکم بھی دیا ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی کااجلاس پیر کو یہاں چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مواصلات، توانائی اور شہری ترقی کے بڑے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور شفافیت، طرز حکمرانی اور ادارہ جاتی نگرانی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کو این 45 چکدرہ-چترال روڈ (گلگت -چترال سیکشن) کی تعمیر و مرمت اور توسیع سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں ٹینڈرنگ کے عمل پر پیش رفت بھی شامل تھی۔ اراکین نے پیش کردہ اعداد و شمار میں تضادات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں نامکمل اور غیر متعلقہ قرار دیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں جنرل مینجر (پی اینڈاے سی) کی آسامی سابقہ جنرل مینجر کو ہٹائے جانے کے بعد سے تاحال خالی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے سفارش کی کہ اقتصادی امورڈویژن ٹینڈرنگ کے عمل کی نگرانی اور جائزے کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کرے تاکہ بے ضابطگیوں کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹینڈرنگ کے عمل میں اقتصادی امورڈویژن کے نمائندوں کی شمولیت اور ان کے ٹی اے/ڈی اے اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرنے کی تجویز بھی دی۔ ماضی میں مبینہ بدعنوانی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اس کی مداخلت پر سابقہ عمل منسوخ کیا گیا تھا۔ موجودہ بڈ ایویلیوایشن میں پراجیکٹ کنسلٹنٹس کی عدم موجودگی پر سخت اعتراض اٹھایا گیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ مکمل دستاویزات بشمول فزیبلٹی رپورٹس اور منصوبہ جاتی نقشے، جمع کرانے اور جائزہ مکمل ہونے تک ٹینڈرنگ کا عمل روک دیا جائے۔ سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان نے بارہا درخواستوں کے باوجود اہم دستاویزات فراہم نہ کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ سیکرٹری مواصلات کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ اجلاسوں میں باخبر افسران کی شرکت یقینی بنائی جائے، چیئرمین نے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کی’’آنکھیں اور کان‘‘ ہوتی ہیں۔ کمیٹی کو ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جامشورو میں 660 میگاواٹ کول فائرڈ پاور پراجیکٹ پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ پلانٹ اس وقت 80 فیصد درآمدی کوئلے پر چل رہا ہے جبکہ مقامی کوئلے کے استعمال کی طرف منتقلی کے لیے کاوشیں جاری ہیں۔ اس ضمن میں سٹڈی میں پیش رفت بھی سامنے آئیے ہے جس پر کام جاری ہے۔ کمیٹی نے زرمبادلہ کے تحفظ کے لیے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے پر زور دیا اور اس بات پر سوال اٹھایا کہ بندرگاہ کے قریب ہونے کے باوجود جامشورو پلانٹ کو آر ایل این جی کیوں فراہم نہیں کی گئی۔ اراکین نے ان تھرمل پاور پلانٹس کی نیلامی پر بھی تشویش ظاہر کی جنہیں بحال کیا جا سکتا تھا۔ چیئرمین نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ ایسی تمام نیلامیوں کی تفصیلات، درآمدی کوئلے کی خریداری اور ٹینڈرنگ کے مکمل ریکارڈ کے ساتھ پیش کی جائیں۔ کمیٹی میں آئی پی پیز کو کیپیسٹی پیمنٹس، سولر صارفین کے لائسنسنگ تقاضوں، بڑھتی ہوئی بجلی قیمتوں، اضافی سرچارجز اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل پر بھی غور کیا گیا۔کمیٹی نے عالمی بینک کے تعاون سے جاری کراچی کے ’’کمپیٹیٹو اینڈ لیویبل سٹی‘‘ (کلک) منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ یہ منصوبہ نئی تعمیرات کے بجائے مقامی حکومتوں بشمول ٹی ایم سیز اور کے ایم سی کی نشاندہی کردہ موجودہ انفراسٹرکچر کی بحالی پر مرکوز ہے۔ شفافیت اور اخراجات کی دہرائی سے بچنے کے لیے چیئرمین نے تمام سکیموں کی جیو ٹیگنگ کی سفارش کی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کلک منصوبے کے تحت کیے گئے یو آئی پی ٹی سروے 2025 کے مطابق 44 لاکھ جائیداد یونٹس کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس سے ٹیکس بیس میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ چیئرمین نے مقامی حکومتوں کو مالی طور پر مستحکم بنانے کی کوششوں کو سراہا اور ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں حکومت سندھ کے اعلیٰ حکام بشمول چیئرمین پی اینڈ ڈی اور متعلقہ صوبائی سیکرٹریز کی شرکت یقینی بنائی جائے۔ تمام سکیموں کے ٹینڈرنگ ریکارڈ کی مکمل فراہمی کی بھی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر کامل علی آغا نے شرکت کی جبکہ سینیٹر رانا محمود الحسن ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.