اسلام آباد۔ (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے قیمتی پتھروں سمیت قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہوا ہے ،مقامی وسائل سے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے،سینٹرز آف ایکسیلنس کے قیام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی و پراسیسنگ کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی اور ان کی برآمدات میں اضافے کے عزم کے ساتھ ملک میں تین سینٹرز آف ایکسیلنس کے قیام سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے قیمتی پتھروں سمیت قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے یہ ایسا شعبہ ہے جس میں مقامی وسائل سے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
معاون خصوصی ہارون اختر اور ان کی ٹیم کے شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں ،سینٹرز آف ایکسیلنس کے قیام میں شفافیت کے عنصر کو اہمیت دی جائے۔ وزیر اعظم نے پاکستانی قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ذمہ داری وزارت منصوبہ بندی کو سونپ دی۔ وزارت منصوبہ بندی جلد جامع لائحہ عمل مرتب کرکے وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔ اجلاس کو قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور کان کنی کے جدید طریقوں کو رائج کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور انہیں زیورات میں مزین کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے حکومت تین سینٹرز آف ایکسیلنس کا قیام عمل میں لا رہی ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سینٹرز کیلئے اراضی کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ علاوہ ازیں اسلام آباد میں سینٹر کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی پر کام جاری ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ان سینٹرز آف ایکسیلنس میں قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار کی پراسیسنگ کیلئے تربیت فراہم کی جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2026 ءمیں پاکستان میں قیمتی پتھروں کے حوالے سے پہلی بین الاقوامی نمائش کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سری لنکا اور چین کے تعاون سے مخصوص قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے افرادی قوت کی تربیت کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اجلاس کو قیمتی پتھروں کے کم سے کم ضیاع کے ساتھ کان کنی کے حوالے سے وزارت پٹرولیم کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لے کر اس حوالے سے مشترکہ منصوبوں کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ ایک ہزار افراد کو قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کان کنی کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم کو منصوبوں کے مراحل اور ان کی تکمیل کی معینہ مدت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے شعبے کی برآمدات میں اضافے کیلئے وزرات منصوبہ بندی کو جامع لائحہ عمل مرتب کرکے جلد پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، علی پرویز ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
Comments 0