مکہ مکرمہ۔ (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل حج عبد الوہاب سومرو نے کہا ہے کہ حج انتظامات کو ظاہری اور انتظامی، دونوں پہلوئوں سے پچھلے سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور منظم بنایا گیا ہے۔ اس بار انتظامات کی تکمیل میں غیر معمولی تیزی لائی گئی ہے جو کام ماضی میں ذوالحجہ کے ابتدائی ایام میں مکمل کیے جاتے تھے، وہ اس سال حج سے دو ماہ قبل ہی مکمل ہو چکے ہیں۔
اس سال 30 ہزار اضافی حجاج کی آمد کے باوجود مکہ مکرمہ میں رہائشی ’انونٹری‘ گزشتہ سال کے مقابلے میں 90 فیصد بہتر ہے جس کے لیے جرول، نزہہ اور ریع بخش جیسے چار نئے سیکٹرز میں معیاری عمارتیں حاصل کی گئی ہیں۔میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی حج عبد الوہاب سومرو نے کہا کہ حج کے سب سے اہم مرحلے یعنی ’مشعائر موومنٹ‘ کے حوالے سے بتایا کہ منیٰ میں تمام خیمے حج سے ایک ماہ قبل ہی مکمل طور پر تیار کر لیے گئے ہیں۔
ان خیموں میں صوفہ کم بیڈز بچھا دیئے گئے ہیں اور ایئر کنڈیشنز فعال ہیں۔ اس بار نظام کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرتے ہوئے حج ایپلی کیشن پر ’بیڈ نمبر‘ کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔ عازمین کو ان کی رہائشی عمارتوں ہی میں نقشوں کے ذریعے تربیت دی جا رہی ہے تاکہ خیمہ بستی پہنچتے ہی وہ بغیر کسی دشواری کے محض چند منٹوں میں اپنے الاٹ کردہ بیڈز تک پہنچ کر سیٹل ہو جائیں۔ بریفنگ کے دوران ’نسک کارڈ‘ کی تقسیم اور ’پری ارائیول ڈیٹا‘ کی شفافیت کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا۔ ڈی جی حج کے مطابق سعودی وزارت حج کے تعاون سے ایک ایسا خودکار نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت فلائٹ کی آمد سے 72 گھنٹے قبل ڈیٹا فراہم کر دیا جاتا ہے جس سے عازمین کو مدینہ منورہ پہنچتے ہی بغیر کسی تاخیر کے کارڈ، کمرہ الاٹمنٹ اور چابیاں مل جاتی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان بہترین انتظامی فیکٹرز اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بدولت پاکستان اس سال بھی بہترین خدمات کے عالمی اعتراف کے طور پر ’لبیّتم ایوارڈ‘ جیتے گا۔اس موقع پر اپنے تاثرات میں پاکستانی عازمین حج کا کہنا تھا کہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن کی جانب سے کیا گیا استقبال ’آئوٹ سٹینڈنگ‘ اور مائنڈ بلوئنگ ہے۔ عازمین نے انتظامات کو ’اے ون‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا سامان باحفاظت پہنچایا گیا اور بہترین کھانوں سمیت رہائشی سہولیات نے ان کا سفر آسان بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس شاندار نظم و ضبط کا سہرا وزارت مذہبی امور کے سر باندھتے ہوئے ’وزارت زندہ باد‘ کے نعرے بھی لگائے۔
Comments 0