وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرکے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم قرار دی گئی دفعات بحال کر دیں

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرکے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم قرار دی گئی دفعات بحال کر دیں
اسلام آباد۔ (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم قرار دی گئی دفعات بحال کر دیں جس کے نتیجے میں حکومت کو شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے اور پاسپورٹ غیرفعال کرنے کا اختیار دوبارہ حاصل ہو گیا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی اور حکومتی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کر لیا۔بنچ میں جسٹس سید ارشد حسین اور جسٹس روزی خان بڑیچ بھی شامل تھے۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہی کیس ہے جس میں شہری غیرقانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فرحان علی نامی شہری غیرقانونی طور پر ایران گیا تھا جہاں سے اسے ڈی پورٹ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غیرقانونی اقدام پر اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا۔درخواست گزار کے وکیل عامر رحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے اور پاسپورٹ کو غیرفعال کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔دورانِ سماعت عدالت نے مزید سوال اٹھایا کہ آیا مذکورہ شخص خود بیرون ملک گیا یا لوگوں سے پیسے لے کر انہیں اٹلی بھجوانے میں ملوث تھا۔ عدالت نے ایف آئی اے کی تفتیش سے متعلق بھی استفسار کیا جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس حوالے سے ایف آئی اے سے مکمل معلومات حاصل نہیں کی گئیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کے رول 3 اور 10 کو کالعدم قرار دیا تھا تاہم اب آئینی عدالت نے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.