تہران (بی بی سی)ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم اس نے اپنی ’سرخ لکیریں‘ طے کر رکھی ہیں جن کا احترام لازم ہوگا۔
ابراہیم عزیزی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ’کسی بھی قیمت پر مذاکرات‘ کیے جائیں یا دوسرے فریق کے ہر طرزِ عمل کو قبول کر لیا جائے۔ ان کے مطابق ایران کی کچھ سرخ لکیریں ہیں جنھیں لازماً مدنظر رکھنا ہوگا۔
اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایرانی وفد بھیجنے سے متعلق سوال پر ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ تہران کو مثبت اشارے ملتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کبھی اصولِ مذاکرات سے خوف نہیں کھایا۔ ممکن ہے آج یا کل مزید جائزے کے بعد ہم اسے ممکن سمجھیں، بشرطیکہ امریکی مذاکراتی ٹیم اور ایران کو ملنے والے پیغامات مثبت ہوں۔‘
ایک اور بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے تمام اقدامات قومی مفاد اور سلامتی کے اصولوں کے تحت ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ایران قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے‘ اور ملک کے مفادات و سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔
انھوں نے مذاکرات کو میدانِ جنگ کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم موجودہ مذاکرات کو میدانِ جنگ ہی کا تسلسل سمجھتے ہیں، اور ہمیں اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر اس سے میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو دوام ملتا ہے، تو مذاکرات کا میدان بھی ہمارے لیے ایک موقع ہے۔ لیکن اگر امریکہ اسے اپنی دھونس پر مبنی حکمتِ عملی کے تحت حد سے زیادہ مطالبات کا میدان بنانا چاہے، تو پھر نہیں۔‘
اس سے قبل بی بی سی نیوز کی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور لیز ڈوسیٹ کو ابراہیم عزیزی نے کہا تھا ’ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول چھوڑنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوگا۔‘
تہران میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر نے کہا کہ ’یہ ہمارا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا اختیار ایران طے کرے گا، بشمول اس بات کے کہ کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے۔‘
ان کے مطابق یہ اختیار اب قانون کی شکل اختیار کرنے والا ہے۔
Comments 0