پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور انڈین حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہے: جنرل سیکریٹری کانگریس جے رام رمیش

پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور انڈین حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہے: جنرل سیکریٹری کانگریس جے رام رمیش
دہلی(بی بی سی)انڈین کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش کی جانب سے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اب انڈیا کو اپنی خارجہ پالیسی اور حکمتِ عملی مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘ جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا کہ ’وہ (پاکستان) آج مُمکنہ طور پر امریکہ ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی حکمتِ عملی پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کو ایک نئی شناخت اور نئی حیثیت مل گئی ہے، جو اس تصویر سے بالکل مختلف ہے جسے منموہن سنگھ نے سنہ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔‘ جے رام رمیش نے مزید لکھا کہ ’فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اشتعال انگیز بیانات، جنھیں پہلگام حملے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، اب صدر ٹرمپ کے پسندیدہ بن گئے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ مودی جی کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ انڈیا کو اپنی سفارتی حکمتِ عملی اور طریقہ کار کو مکمل طور پر بدلنے کی ضرورت ہے، جو مودی جی کے بس کی بات نہیں۔‘

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.