کسی بھی خودمختار ریاست کی قیادت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر، ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے: خوشحال خان کاکڑ

کسی بھی خودمختار ریاست کی قیادت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر، ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے: خوشحال خان کاکڑ
کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین رکن قومي اسمبلي خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت کے افسوسناک واقعے کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن، استحکام اور بین الاقوامی توازن کے لیے انتہائی تشویشناک اور خطرناک پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خودمختار ریاست کی قیادت کو اس انداز میں نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر، ریاستی خودمختاری کے اصولوں اور بنیادی انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایسے اقدامات عالمی سطح پر کشیدگی، عدم اعتماد اور تصادم کے امکانات کو بڑھاتے ہیں، جس کے نتائج پوری انسانیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ چیئرمین پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ طاقت کے استعمال، دھمکیوں اور جارحانہ پالیسیوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کی روش نے ہمیشہ دنیا کو بدامنی، جنگوں اور انسانی المیوں کی طرف دھکیلا ہے۔ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ عالمی طاقتیں تحمل، دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ترجیح دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ظلم، جبر اور ناانصافی کی کوئی بھی شکل قابلِ قبول نہیں، خواہ وہ کسی بھی ملک یا طاقت کی جانب سے کیوں نہ ہو۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اصولی بنیادوں پر ہر اس اقدام کی مخالفت کرتی ہے جو انسانی جانوں کے ضیاع، علاقائی عدم استحکام اور عالمی امن کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔ بیان میں عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس نوعیت کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائیں اور مستقبل میں ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے مؤثر، ذمہ دارانہ اور عملی کردار ادا کریں تاکہ دنیا کو مزید کشیدگی، جنگی خطرات اور عدم استحکام سے محفوظ بنایا جا سکے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن صرف انصاف، مساوات، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور اقوام کے درمیان باہمی اعتماد کے فروغ سے ہی ممکن ہے، اور عالمی طاقتوں کو اپنی پالیسیوں میں انسانی اقدار اور امن کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.