بلوچستان کی خواتین ارکان اسمبلی اور سول سوسائٹی نے بجٹ سازی اور منصوبہ بندی میں خواتین کے کردار کو اہمیت کا حامل قراردیتے ہوئے کہاہے کہ منصفانہ اور جامع بجٹ بلوچستان کی پائیدار ترقی اور دیرپا خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے،صوبے کی خواتین کی بجٹ سازی، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں شمولیت سے بہت سے مسائل ہونگے،درپیش مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جہدوجہد کے ذریعے نظام میں عمل درآمد، کمیونٹی کی شراکت کو یقینی بنانے کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔بدھ کے روز صوبائی اسمبلی بلوچستان کے کمیٹی ہال میں ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کے زیراہتمام یو این وومن اور عورت فائونڈیشن کے اشتراک سے جرمن سفارت خانہ اور یورپین یونین پاکستان کے مالی تعاون تعاون سے صنفی مساوات کے تقاضوں کے مطابق بجٹ سازی اور منصوبہ بندی کے عنوان سے مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، مشاورتی اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، ارکان اسمبلی فرح عظیم شاہ، سلمیٰ کاکڑ، شاہدہ رئوف، صفیہ عمرانی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، ڈائریکٹر جنرل سماجی بہبود اشرف گچکی، صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسیت طاہرہ بلوچ، یو این وومن کی بلوچستان کی سربراہ عائشہ ودود، عورت فائونڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر علائو الدین خلجی، ایڈیشنل آئی جی پولیس جینڈر اسرار احمد عمرانی، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی ممبر فرخندہ اورنگزیب، یو این وومن کے ٹیکنیکل ماہر دائود ننگیال، پروگرام آفیسر یاسمین مغل، ماہر ڈویلپمنٹ امور محمد احسن اچکزئی، ایس ایچ او وومن پولیس اسٹیشن زرغونہ ترین سمیت محکمہ خزانہ، محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات، محکمہ قانون، محکمہ خواتین ترقیات، وزارتِ انسانی حقوق کے نمائندگان، یونیورسٹی کے اساتذہ، ترقیاتی اداروں اور سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔اجلاس کا آغاز شرکا کے تعارف سے ہوا، UN Women کے نمائندے نے سیشن کے مقاصد پیش کیے۔ افتتاحی کلمات میں UN Women، عورت فائونڈیشن اور سیکرٹری صوبائی اسمبلی نے صوبے میں صنفی انصاف، بہتر حکمرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی اور چیئرپرسن ویمن پارلیمنٹری کاکس محترمہ غزالہ گولہ نے اپنے استقبالیہ خطاب میں تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اس شراکت داری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس بلوچستان میں صنفی انصاف پر مبنی گورننس اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے صنفی بنیاد پر بجٹ سازی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل میں مثر شمولیت اسی وقت ممکن ہے جب بجٹ سازی میں ان کی ضروریات اور مسائل کو صحیح طور پر پیشِ نظر رکھا جائے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس نظام کا مقصد خواتین کے لیے الگ بجٹ بنانا نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ اور متوازن تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ خواتین سے متعلق مسائل سنگین ہے جن کے حل کیلئے مل کر کام کی ضرورت ہے، ترقیاتی پی ایس ڈی پی میں خواتین ارکان کی اسکیمات بہت کم یا نہیں ہوتی، خواتین کے فنڈز پر بہت زیادہ کٹ لگایا جاتا ہے، مرد ارکان کی طرح خواتین ارکان سے بھی اپنے ووٹرز اور لوگوں کی امیدیں وابستہ ہیں، ہماری جدوجھد جاری رہنی چاہیے، ہمیں فیکٹس کو دیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے، اس میں کوئی شک نہیں ہمارے بہت سے مرد ارکان فنڈز کے معاملے میں بہت تعاون کررہے ہیں خاص طور پر وزیر اعلی بلوچستان، ہم انسان ہیں ہمارے مسئلوں کیلئے سب کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔یو این وومن کی عائشہ ودود نے کہا کہ خواتین ارکان بلوچستان اسمبلی میں صوبے کی خواتین کی نمائندگی کررہی ہے،رکن صوبائی اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز ہی قانون سازی کرتے ہیں، رائٹ پرسن فار دی رائٹ جاب ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کیلئے سوچنے کی ضرورت ہے، اسمبلی میں قراردادیں آتی ہے ان پر عمل درآمد کتنا ہوتا ہے اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے، پاکستان ایک اسلامی ملک ہے مشترکہ جہدوجہد کے ذریعے عمل درآمد، کمیونٹی کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے، اجلاس میں ماہر ترقیاتی امور محمد احسن اچکزئی نے بجٹ کے عمل، عوامی ترقیاتی پروگرام میں صنفی تجزیے، بجٹ کے جائزے اور نگرانی کے موثر طریقوں پر مفصل گفتگو کی۔ اس دوران شرکا کو اس بات کی وضاحت کی گئی کہ کس طرح بجٹ سازی کے ہر مرحلے میں صنفی تقاضوں کو شامل کرکے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، خصوصا بلوچستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں کی خواتین کے لیے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے تناظر میں خواتین کو درپیش مسائل، خصوصا تعلیم، صحت، معاشی مواقع اور تشدد سے تحفظ جیسے اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکا نے زور دیا کہ پسماندہ علاقوں کی خواتین کے لیے جامع اور حقائق پر مبنی بجٹ سازی از حد ضروری ہے۔ویمن پارلیمنٹری کاکس نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بجٹ سازی کے عمل میں مثر کردار ادا کرے گی، صنفی برابری کے مطابق وسائل کی تقسیم کے لیے آواز بلند کرے گی، اور قانون سازی میں جوابدہی کے عمل کو مزید مضبوط بنائے گی۔ اراکین اسمبلی پر زور دیا گیا کہ وہ بجٹ کی جانچ پڑتال اور قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے نگرانی کے عمل کو بہتر بنائیں۔اجلاس کے ایجنڈے میں بجٹ کی تیاری کے مراحل، سرکاری ترقیاتی پروگرام کے بجٹ کا صنفی جائزہ، اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق ماہرین کے سیشن شامل تھے۔ اس دوران خواتین ترقیات کے محکمے کے کردار، پالیسیوں کے نفاذ اور اداروں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔شرکا نے باہمی تبادلہ خیال کے ذریعے ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی اور آئندہ کے لیے مشترکہ سفارشات مرتب کیں، جن کا مقصد صنفی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر بجٹ مختص کرانا اور قانون سازی و بجٹ سازی میں ویمن پارلیمنٹری کاکس کے کردار کو مزید مثر بنانا ہے۔اجلاس کے متوقع نتائج میں بہتر بین الادارہ جاتی رابطہ کاری، اراکین اسمبلی کی استعداد میں اضافہ، خواتین کے حقوق اور ترجیحات کے لیے مضبوط آواز، اور بجٹ کے مثر نفاذ کی نگرانی شامل ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صنفی بنیاد پر بجٹ سازی کے طریقہ کار کو مستقل بنیادوں پر سرکاری نظام کا حصہ بنایا جائے۔اختتامی کلمات میں چیئرپرسن ویمن پارلیمنٹری کاکس نے کہا کہ منصفانہ اور جامع بجٹ بلوچستان کی پائیدار ترقی اور دیرپا خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور اس کوشش کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
Comments 0