14 ماہ کی مدت میں وزارتِ خزانہ نے مارکیٹ اور سٹیٹ بینک کو واجب الادا 3654 ارب روپے کا ملکی قرضہ مقررہ وقت سے پہلے ادا کر دیا،خرم شہزاد

14 ماہ کی مدت میں وزارتِ خزانہ نے مارکیٹ اور سٹیٹ بینک کو واجب الادا 3654 ارب روپے کا ملکی قرضہ مقررہ وقت سے پہلے ادا کر دیا،خرم شہزاد
اسلام آباد (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ 14 ماہ کی مدت میں وزارتِ خزانہ نے مارکیٹ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو واجب الادا 3654 ارب روپے کا ملکی قرضہ مقررہ وقت سے پہلے ادا کر دیا ہے، قرضہ کی قبل از وقت ادائیگی کے ذریعے عوامی مالیات کو مضبوط بنانے،مالی ساکھ کی بحالی، اورسٹیٹ بینک کے قرضوں میں نمایاں کمی میں مددملی۔ جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پرجاری بیان میں انہوں نے کہاکہ محض 14 ماہ کی مدت میں وزارتِ خزانہ نے مارکیٹ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو واجب الادا 3654 ارب روپے کا ملکی قرضہ مقررہ وقت سے پہلے ادا کر دیا ہے، جمعرات کے روز سٹیٹ بینک کوتازہ ترین 300 ارب روپے کی ادائیگی کردی گئی، یہ تاریخی کامیابی مالی نظم و ضبط، حکومتی ساکھ اور ذمہ دارانہ معاشی انتظام کی جانب فیصلہ کن تبدیلی کی عکاس ہے۔ خرم شہزادنے کہاکہ دسمبر 2024 میں ایک ہزارارب روپے، جون 2025میں 1160ارب روپے، اگست 2025 میں 1160 ارب روپے، اکتوبر 2025 میں 200 ارب روپے، دسمبر 2025میں 494 ارب روپے اورجنوری 2026میں 300 ارب روپے کے قرضہ جات کی ادائیگی کی گئی،جمعرات کی ادائیگی کے بعد صرف جاری مالی سال (جولائی تا جنوری) میں ہی 2150 ارب روپے سے زائد کا قرضہ قبل از وقت ادا کیا جا چکا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔انہوں نے کہاکہ قرضہ کی قبل از وقت ادائیگی کے ذریعے عوامی مالیات کو مضبوط بنانے،مالی ساکھ کی بحالی، اورسٹیٹ بینک کے قرضوں میں نمایاں کمی میں مددملی، سٹیٹ بینک کے تقریباً 44 فیصد قرضہ کی قبل از وقت ادائیگی ہوئی ہے اور قرض کا حجم تقریباً 5500 ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 3,000 ارب روپے رہ گیا، وہ قرض جو 2029 میں واجب الادا ہونا تھا وہ کئی سال پہلے ادا کر دیا گیا۔ خرم شہزادنے کہاکہ قبل از وقت ادا کیے گئے مجموعی قرضہ میں سٹیٹ بینک کا تناسب 65 فیصد ، ٹریژری بلز30فیصد،اورپاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کاحصہ 5فیصدہے،قرضوں میں کمی کایہ رجحان مجموعی سرکاری قرض میں بھی واضح ہے جو جون 2025 میں 80.5 ٹریلین روپے سے زائد تھا اور نومبر 2025 تک کم ہو کر تقریباً 80 ٹریلین روپے رہ گیا، انہوں نے کہاکہ جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کاحجم مالی سال 22 میں تقریباً 74 فیصد تھا جواب کم ہو کر تقریباً 70 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ نظم و ضبط پر مبنی قرضہ حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ مالی بنیادوں میں مجموعی بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.