کراچی(بی بی سی)پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے آغاز پر 12920 پوائنٹس اضافے کے 164594 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔
کاروبار میں تیزی کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی کا اعلان ہے جو پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ممکن ہوا۔
جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کا مثبت اثر آج سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر ہوا۔ مارکیٹ میں بے تحاشہ تیزی کی وجہ سے کاروبار کو ایک گھنٹے کے لیے اپر سرکٹ کے اصول کے تحت معطل کر دیا گیا ہے.
واضح رہے کہ فروری کے آخر میں امریکہ و اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان سٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار ہے اور انڈیکس میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ آج مارکیٹ میں تیزی کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مہینے سے جاری کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہے جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کا اثر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر مثبت انداز میں ہوا۔
عالمی منڈی میں تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے پہنچ گئی ہے۔
جبران کا کہنا کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں بہت زیادہ دلچسپی دیکھنے میں آئی اور خریداری کا دباؤ بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے کمپنیوں کے حصص اپر لاک پر پہنچ گئے جس کے بعد انڈیکس بھی 12920 پوائنٹس تک بڑھ گیا جو انڈیکس کے پانچ فیصد سے زیادہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد اپر سرکٹ کے اصول کے تحت کاروبار ایک گھنٹے کے لیے معطل کر دیا گیا۔
Comments 0