زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین وسابق رکن اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی، جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی اور ایگزیکٹو ممبران نے بلوچستان کے مختلف اضلاع قلعہ سیف اللہ، کچھی، قلعہ عبداللہ، پشین، ڈھاڈر، مستونگ سمیت دیگر علاقوں میں حالیہ بارشوں اور ژالہ باری سے زمینداروں کو ہونے والے بھاری نقصانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ حالیہ بارشوں اور ژالہ باری نے کھڑی فصلوں، باغات اور سبزیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے باعث زمینداروں کی سال بھر کی محنت تباہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا زمیندار پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے اور اب اس نئی قدرتی آفت نے انہیں مزید معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ سال 2022 میں بھی شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث زراعت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا، جس سے زمیندار آج تک مکمل طور پر سنبھل نہیں سکے۔ اس کے علاوہ گزشتہ برسوں میں ٹڈی دل کے حملوں نے بھی فصلوں کو تباہ کیا، جس سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔زمیندار ایکشن کمیٹی کے رہنماں نے کہا کہ مسلسل قدرتی آفات اور حکومتی عدم توجہ کے باعث زراعت کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جبکہ زمیندار قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں کا فوری سروے کر کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے اور زمینداروں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امدادی پیکج، بلا سود قرضے، بیج اور کھاد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر زمینداروں کی فوری مدد نہ کی گئی تو اس کے اثرات نہ صرف زراعت بلکہ ملکی معیشت اور خوراک کی فراہمی پر بھی مرتب ہوں گے۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کی کہ زراعت کو بچانے کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کیے جائیں تاکہ زمینداروں کو مزید نقصانات سے بچایا جا سکے۔اس سلسلے میں اگر زمینداروں کے مسائل حل نہ کئے گئے تو زمیندار ایکشن کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے نہ صرف آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے بلکہ عدالت عالیہ سمیت ہر فورم پر آواز بلند کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
Comments 0