عمران مائنس پر مزاحمت ہوگی،ایمٹی پاور ہے بھکاری تو نہیں بننا چاہیے،محمود خان اچکزئی

عمران مائنس پر مزاحمت ہوگی،ایمٹی پاور ہے بھکاری تو نہیں بننا چاہیے،محمود خان اچکزئی
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں خطاب اور ایوان کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے دوست ملک جنہوں نے آپ کو پیسہ دیا ہوا ہے پیسہ نکال رہے ہیں کیوں؟ ہمیں اعتماد میں لیں۔ آپ کے وہ دوست ناراض کیوں ہیں اور ہم بیچ میں وہ ناراضگی کیوں نہ لیں۔ ہم ویسے بھی ایٹمی پاور ہیں ہمیں بھکاری تو نہیں بننا ہوگا۔ ہم اپنے پاں پہ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ہم اپنے عوام پہ بھروسہ کریں، اپنے لوگوں پہ بھروسہ کریں۔ یہ ملک دنیا جہان کی نعمتوں سے پر ملک ہے۔ یہ ملک بہت تھوڑے عرصے میں کولیکٹو وزڈم سے اس بحران سے نکل سکتا ہے محمود خان اچکزئی نے افغانستان کے ساتھ سرحدوں کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ بارڈر بند ہونے سے پنجاب کا زمیندار برباد ہو گیا ہے اور فصلیں ضائع ہو رہی ہیں۔ سرحدوں سے جڑے دونوں صوبے (بلوچستان اور خیبر پختونخوا) پہلے اپنی معیشت خود سنبھالتے تھے۔سرحد پار تجارت سے عام لوگ اور بچے بھی روزانہ کی بنیاد پر باعزت روزگار کما لیتے تھے۔اب ان علاقوں میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جائیں اور مذاکرات کی راہ اپنائی جائے۔قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے مائنس عمران خان کرنے والے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہاکہ میں محسوس کر رہا ہوں میں ایک سیاسی کارکن ہوں، اور ایسی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ عمران خان کو مائنس کر کے کوئی چیز بنائی جائے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مزاحمت کریں گے۔"رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجران کے عیسائی آئے تھے مذاکرات کے لییعیسائیت کے متعلق اسلام اور قرآن کی جو رائے ہے آپ کو پتہ ہے۔ بنو نجران کے عیسائیوں سے مذاکرات کے دوران رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی میں ان کو جگہ دی اور ایک کونہ مختص کیا کہ وہاں اپنی عبادات کیا کریں۔ جب مذاکرات انہوں نے کیے اور کسی نقطے پر نہیں پہنچے تو قرآن کریم کی آیات ہیں۔ رسول مقبول نے کہا کہ آئیں ہم ان نکات پر متفق ہوں جو ہمارے مشترک ہو سکتے ہیں خدا کو ماننا وغیرہ۔ قرآن کریم کی دوسری آیات ہیں پتا نہیں ہم نے ایسا کیوں کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں تو مذہب نعوذ باللہ کی شکل ایسی ہو گئی ہے کہ انسان انسان کے خون کا پیاسا ہے۔ تو اگر میرے عقیدے کے مطابق نہیں ہے، تیرا قتل جائز ہے۔ یہ پاگل پن ہے۔ یہ نہیں ہے۔ 'لا اکرہ فی الدین'۔ آیت الکرسی کی آیت ہے، دین میں زور نہیں مرضی ہر آدمی کی۔ 'لا اکرہ فی الدین'۔ دین انسانوں کو بچانے کے لیے ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں میں آیت بھول رہا ہوں، اللہ پاک کہتے ہیں کہ اگر میں طاقتوروں کو ایک دوسرے سے بیلنس نہ کرتا تو نہ کوئی گرجہ رہتا الفاظ ہیں نہ کوئی گرجہ رہتا نہ یہودیوں کی عبادت گاہ رہتی نہ کوئی خانقاہ محفوظ رہتی نہ کوئی مسجد محفوظ رہتی، سب برباد ہو جاتے۔ بس میں آپ سے یہ باتیں کرنے آیا تھا۔ وہ جرنیل صاحب کا میں نام نہیں لیتا پریولج موشن میں پیش کر سکتا تھا، ان سے میں پوچھ سکتا تھا، نہ میں نے کوئی مراعات لی ہیں نہ میں مراعات حالانکہ میرا حق ہے۔ گھر میرا حق ہے، پتا نہیں کیا میرا حق ہے پٹرول، گاڑی وغیرہ کچھ نہیں۔ ایک گاڑی میرے پاس ہے کبھی میں اس میں یہاں سے اسلام آباد کلب تک چلا جاتا ہوں چھوٹی گاڑی ورنہ میں اپنی گاڑی استعمال کرتا ہوں۔ پٹرول جب سے میں وہ بنا ہوں، شاید میں نے جو میرا استحقاق ہے اس کا ایک آٹھواں حصہ بھی میں نے استعمال نہیں کیا۔ ان باتوں کے لیے میں آیا تھا۔اگرچہ چیانگ کائی شیک کی بادشاہی کو ان کی حکمرانی کو کمیونسٹ ریوولوشن نے فارغ کر دیا مازے تنگ کے سب راہبین لیکن ان کی وہ بات چینیوں نے فالو کی کہ چین اب طاقتور ہے۔ جس طرح چیانگ کائی شیک کی بیوی نے 1941، 42 میں کہا تھا کہ اب طاقتور چین کو کوئی نہیں چھیڑ سکتا۔ہمیں بھی اس پاگلوں کی دنیا میں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے آپ کو کس طرح طاقتور کر سکتے ہیں۔ ہماری طاقت اس میں ہے کہ یہاں قومی طور پہ ہم متفق ہوں اور قومی طور پہ ہم اسی ایجنڈے پہ متفق ہو سکتے ہیں کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہو طاقت کا چشمہ عوام ہوں، ساری خارجہ اور داخلی پالیسیاں یہاں سے ہوں۔افواجِ پاکستان مضبوط ترین ہوں ہماری لیکن اپنے اپنے فریم میں۔ یہ نہیں کہ پورا فلانہ فلانہ جو آپ کے خلاف کلیمز لگائی گئی ہیں ان سب کو اپنے اپنے فریم میں ہوتے ہوئے وقت سے پہلے ہمیں اس کی تیاری کرنی ہوگی۔ وقت ہمارے پاس بہت کم ہے۔میں نے آج یہی کہا تھا کہ ٹھیک ہے مہنگائی ہے جو کچھ ہے لیکن بات یہ ہے کہ ہمارا خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ We should be ready for the consequences.اور یہ بکھرا ہوا پاکستان ایک دوسرے کو گالیاں دینے والا پاکستان یہ برداشت نہیں کر سکتا۔ یہاں اقتدار میں رہنے والوں نے اب یہی کیا ہے کہ لوگوں کو رشوتیں دی ہیں، اور پھر جن لوگوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا ان کو NAB کے ذریعے سویلین مقدمات فوجیوں کے حوالے اور فلانہ عجیب عجیب قسم کے قوانین یہ بربادی کا راستہ ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.