کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت حلیم پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات اور متاثرین کو ممکنہ معاوضے کی فراہمی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، چیف فائر آفیسر میونسپل کارپوریشن کوئٹہ عبدالحق، اسسٹنٹ کمشنر (پولیٹیکل)سید کلیم اللہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹس، پلازہ کے معائنے، نقصانات کے تخمینے اور دیگر اہم پہلووں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیف فائر آفیسر کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں پلازہ میں فائر سیفٹی انتظامات، فائر فائٹنگ سسٹم، آگ بجھانے کے آلات اور ایمرجنسی رسپانس کی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی۔اجلاس میں آتشزدگی کی ممکنہ وجوہات پر بھی غور کیا گیا، جن میں فائر سیفٹی گریڈ کی عدم دستیابی، بلڈنگ قوانین پر عملدرآمد میں ممکنہ کمزوریاں، بجلی کی بندش سے متعلق مسائل اور حفاظتی معیارات میں کوتاہیاں شامل ہیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے واضح ہدایت کی کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے جامع، شفاف اور میرٹ پر مبنی تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کا درست تعین کیا جا سکے۔کمشنر نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ کیسکو حکام سے بجلی کی بندش اور اس کے اوقات سے متعلق مکمل رپورٹ حاصل کی جائے تاکہ تحقیقات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ ادارے اپنی تفصیلی رپورٹس آئندہ اجلاس سے قبل جمع کرائیں تاکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سفارشات مرتب کر کے اعلی حکام کو ارسال کی جا سکیں۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلڈنگ کوڈ اور سیفٹی رولز 2022 پر عملدرآمد کا خصوصی جائزہ لیا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ متعلقہ پلازہ میں حفاظتی اصولوں کی کس حد تک پابندی کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس تحقیقاتی عمل کا مقصد نہ صرف ذمہ داری کا تعین کرنا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اور پائیدار اقدامات کو یقینی بنانا بھی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ معاوضے کی ادائیگی کا فیصلہ تحقیقات کے نتائج اور ذمہ داری کے تعین سے مشروط ہوگا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام پہلووں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ایک جامع رپورٹ مرتب کی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
Comments 0