سینئر ڈاکٹر نوراللہ موسیٰ خیل کے خلاف انتقامی کارروائی ناقابل قبول ہے،رکن بلوچستان رحمت صالح بلوچ کی محکمہ صحت کی کارروائی کی مذمت

سینئر ڈاکٹر نوراللہ موسیٰ خیل کے خلاف انتقامی کارروائی ناقابل قبول ہے،رکن بلوچستان رحمت صالح بلوچ کی محکمہ صحت کی کارروائی کی مذمت
نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے سینئر ڈاکٹر نوراللہ موسیٰ خیل کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت کی جانے والی کارروائی کو کھلی انتقامی کاروائی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی انہوں نے کہا کہ ایک آفیسر کی ذاتی انا، ضد اور پسند ناپسند کی بنیاد پر ایک قابل، دیانتدار اور تجربہ کار ڈاکٹر کو نشانہ بنانا نہ صرف اختیارات کا ناجائز استعمال ہے بلکہ یہ سرکاری نظام کی ساکھ پر بھی کاری ضرب ہے ڈاکٹر نوراللہ موسیٰ خیل کو محض اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے غیر قانونی اور غیر مناسب اقدامات کے آگے جھکنے سے انکار کیا، کرپشن کا حصہ بننے سے گریز کیا اور ہمیشہ اصولی مؤقف اپنایا انہوں نے کہا کہ ایک ایماندار اور فرض شناس افسر کو اس حد تک سزا دینا کہ آئندہ کوئی بھی بااصول شخص کسی اہم ذمہ داری یا پوسٹنگ کو قبول کرنے سے پہلے سو بار سوچے، انتہائی خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی انتقامی کارروائیاں نہ صرف پیشہ ورانہ آزادی کو کچلنے کے مترادف ہیں بلکہ پورے ڈاکٹرز کمیونٹی میں شدید اضطراب، بے چینی اور عدم تحفظ کو بھی جنم دے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ڈاکٹر نوراللہ موسیٰ خیل کی خدمات اور قربانیوں کا ہمیشہ مقروض رہے گا۔ کورونا وباء جیسے نازک ترین دور میں جب اکثر لوگ خوف کا شکار تھے ڈاکٹر نوراللہ موسیٰ خیل بطور ایم ایس فاطمہ جناح ہسپتال فرنٹ لائن پر کھڑے ہو کر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مریضوں کی خدمت کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا ویکسین کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے دوران سب سے پہلے خود کو بطور مثال پیش کرنا ان کی جرات اور عوامی خدمت کے جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہےمیر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ بدقسمتی سے آج صوبہ ایسے عناصر کے سپرد ہے جو ذاتی مفادات، انتقامی سیاست اور نااہلی کے باعث بلوچستان کو تباہی کے راستے پر دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتقام، اقرباء پروری اور پسند ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی روش نے اداروں کو کھوکھلا کر دیا ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نوراللہ موسیٰ خیل کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی نہ صرف غیر قانونی بلکہ اخلاقی طور پر بھی ناقابل قبول ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ڈاکٹرز کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ اس ظلم کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کرے اور حق و انصاف کے لیے کھڑی ہوانہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر نوراللہ موسیٰ خیل کے خلاف جاری انتقامی کارروائی کو فی الفور ختم کریں

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.