اسلام آباد (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ مؤثر نظامِ انصاف کے لئے پیشہ وارانہ، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق تحقیقات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں، پولیس اور عدالتیں فوجداری نظامِ انصاف کے اہم ستون ہیں جو اپنی اپنی ذمہ داریوں کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے پولیس سروس آف پاکستان کے 52ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے 42 زیرِ تربیت افسران کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی جنہوں نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں جاری پروفیشنل ایکسچینج پروگرام کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان کا دورہ کیا۔ وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اور ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی نے مشترکہ طور پر کی۔چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کی اہم خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری غیر جانبدارانہ اور قانونی تقاضوں کے مطابق تفتیش کرنا ہے جبکہ عدالتیں پیش کئے گئے شواہد کی بنیاد پر مقدمات کا فیصلہ کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مؤثر انصاف کی فراہمی کا انحصار بنیادی طور پر شفاف، معروضی اور پیشہ وارانہ تحقیقات پر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں حاصل ہونے والی تربیت اور عملی آگاہی سے زیرِ تربیت افسران کو عدالتوں کے طریقہ کار، شہادتوں کے تقاضوں اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی، جس سے انصاف کے نظام کے مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی مضبوط ہوگی۔چیف جسٹس نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں دیانتداری، انصاف پسندی اور قانون کی حکمرانی کو مقدم رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اہلکار ہونے کے ناطے انہیں عوام کے لئے قابلِ رسائی، بااخلاق اور جوابدہ ہونا چاہئے کیونکہ مؤثر طرزِ حکمرانی کی بنیاد قانون اور عوام کے احترام پر قائم ہوتی ہے۔دورے کے اختتام پر ادارہ جاتی خیر سگالی کے اظہار کے طور پر یادگاری شیلڈز کا تبادلہ بھی کیا گیا۔
Comments 0