بلوچستان ہائی کورٹ میں کوئٹہ شہر میں ٹریفک مسائل سے متعلق کیس کی سماعت، حکام سے سروے طلب

بلوچستان ہائی کورٹ میں کوئٹہ شہر میں ٹریفک مسائل سے متعلق کیس کی سماعت، حکام سے سروے طلب
کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ میں لوکل ٹرانسپورٹ اور شہری ٹریفک سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار کی جانب سے پٹیشن کا ترمیم شدہ عنوان عدالت میں جمع، ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سی ایم اے نمبر 664/2026 کا جواب اور دستاویزات عدالت میں جمع کرا دیں۔درخواست گزار کے وکیل نے دستاویزات کے جائزے کے لیے مہلت طلب کر لی۔حکومت کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کا مقف، عدالت کو آگاہ کر دیا گیا۔ٹریفک انجینئرنگ بیورو اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔2024 میں رکشہ روٹ پرمٹس سے 50 لاکھ سے زائد جبکہ 2025 میں ایک کروڑ سے زائد ریونیو وصول کی گئی،2024 میں 815 جبکہ 2025 میں تقریبا 3300 کمپیوٹرائزڈ رکشہ روٹ پرمٹس جاری کیے گئے۔غیر قانونی رکشوں کے خلاف کارروائی، اکتوبر تا دسمبر 2024 میں 820 رکشے ضبط کئے گئے،سال 2025 میں 849 رکشوں کے خلاف کارروائی جبکہ 2026 میں اب تک 117 رکشے ضبط کئے،ٹینٹڈ شیشوں اور فینسی نمبر پلیٹس کے خلاف بھی ہزاروں گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ،جبکہ کوئٹہ میں ٹریفک نظام بہتر بنانے کے لیے جدید گاڑیاں اور آلات خریدنے کی تجویز دی گئی۔ایس ایس پی ٹریفک آفس کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کرنے کی منصوبہ بندی زیر غور ہے جی پی او چوک اور سیرینا چوک سمیت اہم مقامات پر نئے ٹریفک سگنلز نصب کیے جا رہے ہیں۔ٹریفک انفراسٹرکچر کی تنصیب کا کام اپریل 2026 کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے کوئٹہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں الیکٹرک وہیکلز منصوبہ شروع کرنے کی تیاری ہے ،ابتدائی مرحلے میں تین روٹس پر 30 الیکٹرک گاڑیاں چلانے کا منصوبہ ہے الیکٹرک ٹرانسپورٹ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیا جائے گا۔تاج انٹرپرائزز اور ٹریکٹیو سلوشنز کا مشترکہ منصوبہ بہترین بولی دہندہ قرارورک آرڈر کے بعد 60 سے 75 دن میں الیکٹرک گاڑیوں کے آپریشن شروع ہونے کی توقع۔کچلاک ٹرانسپورٹرز نے بسوں کو شہر میں داخلے سے روکنے کو امتیازی سلوک قرار دے دیا۔ گرین بس سروس کے باوجود اندرون شہر بسوں پر پابندی عائد کی گئی متبادل ٹرانسپورٹ تک لوکل بسوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ کے ساتھ چلانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیاگیا۔ سیکرٹری ار ٹی اے نے بتایاکہ موٹر وہیکل رولز 1969 کے تحت پانچ سال سے زائد پرانی پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔بین الاضلاعی بسوں کو صرف مقررہ اسٹاپس تک آنے کی اجازت ہے، عدالت نے حکم دیاکہ فیڈر روٹس کے تعین کے لیے سروے کا عمل تیز کیا جائے گرین بس، منی بس اور ویگن روٹس سے متعلق جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی اورحکم کی نقل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کو بھجوانے کی ہدایت کردی۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.