بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہاہے کہ بار اور بینچ انصاف کی فراہمی میں اپنا کلیدی کردارادا کریں ،وکلاء کودرپیش مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہیں ، بطور وکیل بار کے ساتھ گہری وابستگی رہی ہے بلکہ بار اور بینچ کے ساتھ میرا خصوصی لگائو ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ بار روم میں عید ملن پارٹی کے موقع پر وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پربلوچستان ہائی کورٹ کے ججز، بلوچستان ہائی کورٹ وماتحت عدالت کے وکلاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس کامران ملاخیل نے عید ملن پارٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وکلا برادری کو عید کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے مطالبات ایمرجنسی نوعیت کے ہیں جنہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی ملک، قوم، صوبے اور شہر کے عوام کو معاشی و معاشرتی ترقی عطا فرمائے، اور کہا کہ یہ وہی دعا ہے جو حضرت ابراہیم نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے موقع پر کی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ بطور وکیل ان کی بار کے ساتھ گہری وابستگی رہی ہے اور اس بار وکلا اور بینچ کے ساتھ ان کا خصوصی لگا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کچلاک سیشن میں لائبریری کے قیام، کوئٹہ سیشن کی تزئین و آرائش اور سیکیورٹی کے انتظامات کو بہتر بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ کی توسیع، فی میل بار روم، آڈیٹوریم اور ڈیجیٹل لیب کے منصوبے زیر غور ہیں، جبکہ تمام اضلاع کو مرحلہ وار سولر سسٹم پر منتقل کرنے کا بھی منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ عدلیہ کو علیحدہ بجٹ نہیں ملتا بلکہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ وسائل کو دیانتداری اور احتیاط سے خرچ کرنا ہوتا ہے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس سے بھی بات چیت ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وکلا کو چاہیے کہ وہ اپنے پیشے کو ترجیح دیں۔چیف جسٹس نے 8 اگست کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے دل کے بہت قریب ہیں۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ بینچ اور بار انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔
Comments 0