کیا وکلاء برادری قانون سے بالاتر ہے

کیا وکلاء برادری قانون سے بالاتر ہے
کوئٹہ شہر ہمیشہ سے مسائل کا شکار رہا ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ بعض مسائل اب صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ طاقتور طبقوں کی اجارہ داری کی علامت بنتے جا رہے ہیں شہر کی دو اہم شاہراہیں عدالت روڈ اور عدالت کے سامنے مین شاہراہ آج عوام کے لیے عذاب بن چکی ہیں وجہ صرف ٹریفک نہیں بلکہ وہ غیر منظم اور متنازعہ پارکنگ و سائیکل اسٹینڈ ہیں جنہیں بااثر عناصر کی سرپرستی حاصل ہے عدالت روڈ پر قائم سائیکل اسٹینڈ نے سڑک کو اس حد تک تنگ کر دیا ہے کہ عام شہری مریض طلبہ اور دفتری ملازمین کو روزانہ شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے دوسری جانب عدالت کے سامنے مین شاہراہ پر گاڑیوں کی بے ہنگم پارکنگ نے ٹریفک کا نظام مفلوج کر رکھا ہے حیرت اس بات پر ہے کہ قانون کی عملداری کے سب سے بڑے دعوے دار طبقے کے سامنے ہی قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ان پارکنگ اسٹینڈز کو چلانے والے افراد کا رویہ بھی عوام کے لیے ایک الگ اذیت ہے مین شاہراہ پر گاڑیاں روک کر مخصوص گاڑیوں کو راستہ دینا شہریوں سے بدتمیزی کرنا اور خود کو کسی قانون سے بالاتر سمجھنا روز کا معمول بن چکا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ اختیار انہیں کس نے دیا کیا سرکاری سڑکیں چند افراد کی ذاتی جاگیر بن چکی ہیں یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ 2013 میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے شہر کی مختلف شاہراہوں پر پیڈ پارکنگ کا نظام متعارف کرایا تھا اس وقت انجمن تاجران سمیت مختلف حلقوں نے شدید احتجاج کیا حتیٰ کہ شہر بھر میں شور برپا ہو گیا نتیجتاً میئر کو پورے شہر سے پیڈ پارکنگ ختم کرنا پڑا لیکن سوال یہ ہے کہ جب پورے شہر میں پیڈ پارکنگ غیر قانونی یا عوام دشمن قرار دی گئی تھی تو عدالت روڈ کا یہ سائیکل اسٹینڈ آج تک کس قانون کے تحت قائم ہے ستم ظریفی یہ ہے سائیکل والا ٹھیکدار موصوف سارے روڈ کو بلاک کر دیتا ہے جیسے پورا روڈ اس کی ذاتی جاگیر ہے اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر یہ استثنا کیوں کیا وکلاء برادری کے چند بااثر افراد قانون سے بالاتر ہیں یا پھر متعلقہ ادارے خوف دباؤ یا مفادات کے باعث خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بدقسمتی سے ایسے معاملات عوام کے دلوں میں انصاف کے نظام کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتے ہیں جب عدالت کے سامنے ہی تجاوزات غیر قانونی پارکنگ اور عوامی مشکلات کا خاتمہ نہ ہو سکے تو عام شہری انصاف اور قانون کی بالادستی پر کیسے یقین کرے ضرورت اس امر کی ہے کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں اگر شہر بھر میں پیڈ پارکنگ ختم کی جا سکتی ہے تو عدالت روڈ اور اس کے اطراف بھی قانون یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے عوامی سڑکیں عوام کے لیے ہوتی ہیں کسی مخصوص گروہ یا طبقے کے مفادات کے لیے نہیں وکلاء برادری معاشرے کا ایک قابل احترام طبقہ ہے یہی طبقہ آئین قانون اور انصاف کی بات کرتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں خود مثال قائم کرنی چاہیے تاکہ عوام کا قانون پر اعتماد بحال رہے کیونکہ جب قانون کے محافظ ہی قانون شکنی کے تاثر سے جڑ جائیں تو پھر معاشرے میں انصاف کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ شہری حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے کا ہے کوئٹہ کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا واقعی کچھ لوگ قانون سے بالاتر ہیں۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.