تاریخی گدان نما بلوچستان اسمبلی کا گرانا

تاریخی گدان نما بلوچستان اسمبلی کا گرانا
بلوچستان کے 65 اراکین جنہیں صوبائی اسمبلی، ایم پی اے ہاسٹل، وزیراعلی آفس، سول سیکریٹریٹ دئیے گئے ہیں پھر بھی ان کے سہولتوں کا فقدان ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے ممبران کی سنجیدگی تب قبول کرتے اگر صوبے کے سب سے بڑے سول ہسپتال کوئٹہ کے لئے ایسی دلچسپی دکھاتے جیسے بلوچستان اسمبلی کی نئ عمارت کے لئے دکھائی گئ جہاں 5 ارب روپے سے نئی عمارت تعمیر کی جائے گی! اسمبلی اراکین کو عوام کا احساس ہوتا تو اسمبلی عمارت کی بجائے بلوچستان میڈیکل کمپلیکس کے لئے یہی 5 ارب روپے مختص کئے جاتے تاکہ ڈاکٹرز جدید طرز پر مہارت حاصل کرتے! اراکین اسمبلی عوام دوست ہوتے تو یہ 5 ارب روپے کوئٹہ شہر میں نصب سیکورٹی کیمروں کی فعالی پر لگائے جاتے! اراکین اسمبلی میں حب الوطنی ہوتی تو بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنخواہوں کی مد میں یہ رقم مختص کیا جاتا! اراکین اسمبلی کا ضمیر زندہ ہوتا تو کوئٹہ شہر کے پانی کے مسئلے کے حل کے لئے ڈیم کی مد میں یہ رقم مختص کیا جاتا! اراکین اسمبلی اعلیٰ ظرف ہوتے تو یہ رقم ان طلباء میں تقسیم کرتے جو غربت کے سبب تعلیم چھوڑ کر کم عمری میں مجبوراً مزدوری شروع کر لیتے ہیں۔ بہرحال بلوچستان اسمبلی کی موجودہ بلڈنگ کا سنگ بنیاد 1973 میں اس وقت کے گورنر نواب اکبر خان بگٹی نے رکھی۔ بلوچی گدان (خیمے) نما اس خوبصورت عمارت کی بلوچستان کے لئے اہمیت کسی ورثے سے کم نہیں۔ اس عمارت کی تعمیر میں 15 سال لگے۔ بعد ازاں 1987 میں اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جنیجو نے باقاعدہ اسمبلی عمارت کی افتتاح کی۔ گدان نما اس خوبصورت عمارت میں 72 اراکین کے لئے بڑا ہال قائم ہے۔ گورنر اور اسپیکر کے لئے مشترکہ گیلری جہاں 25 اراکین بٹھائے جاسکتے ہیں، آفیشل گیلری جہاں 25 بندوں کی جگہ قائم ہے، پبلک وزیٹرز گیلری جہاں 168 بندوں کی جگہ موجود ہے جبکہ پریس کے لئے الگ 55 بندوں کی جگہ دستیاب ہے۔ مذید یہ کہ سال 2002 میں ایڈمنسٹریشن ونگ کا بھی اضافہ کیا گیا۔ اب حیرت کی بات یہ ہے کہ 65 نکموں (اسمبلی اراکین) کے لئے 5 ارب کی لاگت سے نئ عمارت تعمیر کی جائے گی اور اس تاریخی خوبصورت عمارت کو گرایا جائے گا۔ درحقیقت نہ کام کے نہ کاج کے، دشمن اناج کے۔ اسمبلی میں اکثریت نکمے اور نکھٹو ہیں۔ ان کی ترجیحات سے ہی عوام و وطن دوستی ظاہر ہے حالانکہ سالانہ پی ایس ڈی پی کی شکل میں 3 سو ارب ترقیات کے نام پر ان نکموں کو دئیے جاتے ہیں۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.