کوئٹہ کے عوام کا استحصال کب تک ؟سوئی سدرن گیس کی نااہلی پر عدالتی گرفت اب ناگزیر

کوئٹہ کے عوام کا استحصال کب تک ؟سوئی سدرن گیس کی نااہلی پر عدالتی گرفت اب ناگزیر
کوئٹہ کے شہری آج جس اذیت تکلیف زدہ صورتحال سے گزر رہے ہیں یہ ایک دن یا ایک موسم کی پیداوار نہیں بلکہ ایک منظم غفلت بدانتظامی لائن لاسس کو چھپانے اور بے حسی کا نتیجہ ہے بنیادی سہولت گیس جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں کیا جا سکتا ہے اس کو عوام کے لیے عذاب بنا دیا گیا ہے سوال یہ ہے کہ آخر کب تک شہریوں کو اس ناانصافی کا ایندھن بنایا جاتا رہے گا صبح کے اوقات میں جب گھروں میں پریشر ہونا چاہئیں اس وقت صرف ہوا سونگھنے کو ملتا ہے گھروں میں خاموشی چھائی رہتی ہے معصوم بچے بغیر ناشتہ کیے اسکول جانے پر مجبور ہیں کیا یہ کسی مہذب معاشرے کی عکاسی کرتا ہے دوپہر میں بھی حالات مختلف نہیں بلکہ مزید تشویشناک ہو جاتے ہیں جب گیس کی جگہ پائپ لائنوں میں صرف ہوا فراہم کیا جاتا ہے یہ عمل نہ صرف عوام کے ساتھ سنگین مذاق ہے بلکہ ایک خطرناک غفلت بھی ہے جس کے نتیجے میں کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں ستم ظریفی یہ ہے کہ گیس فراہمی کا جو شیڈول جاری کیا جاتا ہے وہ بھی محض کاغذی کارروائی ثابت ہوتی ہے تین گھنٹے کی فراہمی کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر حقیقت میں بمشکل ایک گھنٹہ گیس ملتا ہے وہ بھی کمپریسر کے زریعے جبکہ باقی وقت صرف ہوا ، کیا یہ کھلی دھوکہ دہی نہیں کیا یہ عوام کے صبر کا امتحان نہیں لیا جا رہا آخر کیوں یہ ظلم کی انتہا ختم نہیں ہوتی جن گھروں میں معمولی استعمال 50 یا 60 یونٹس ہوتا ہے انہیں بھی 5000 روپے یا اس سے زائد کے بل بجھوائیں دیے جاتے ہیں یہ صرف نااہلی نہیں بلکہ ایک منظم استحصال ہے جس میں عوام کو دونوں طرف سے نچوڑا جا رہا ہے نہ گیس دی جاتی ہے اور نہ ہی بلوں میں کوئی رعایت یہ حقیقت بھی ناقابلِ تردید ہے کہ ماضی میں معزز چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب کامران ملاخیل اور ان ساتھی جج صاحبان نے عوامی مسائل پر بروقت اور سخت اقدامات کیے ہیں انہی اقدامات کے باعث گیس پریشر میں بہتری آئی تھی اور ہزاروں خاندانوں کو وقتی ریلیف ملا یہی اعتماد آج بھی عوام کو عدالت عالیہ کی دہلیز تک لے آتا ہے مگر اب صورتحال وقتی احکامات سے آگے بڑھ چکی ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ کے خلاف مستقل اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے بھاری جرمانے سخت نگرانی اور جوابدہی کا ایسا نظام نافذ کیا جائے جو آئندہ کسی بھی ادارے کو عوام کے ساتھ اس قسم کا نا روا سلوک کرنے کی جرات نہ دے یہ صرف گیس کا مسئلہ نہیں یہ عوام کے وقار ان کے حقوق اور ان کی بنیادی زندگی کا مسئلہ ہے اگر ایک ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر سکتی تو یہ سوال اٹھانا لازم ہو جاتا ہے کہ پھر ذمہ داری کس کی ہے کوئٹہ کے عوام آج بھی پرامید ہیں کہ عدالت عالیہ ان کی آواز سنے گی اور ایک ایسا فیصلہ صادر کرے گی جو نہ صرف فوری ریلیف فراہم کرے بلکہ اس مسلسل استحصال کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دے کیونکہ اب یہ مسئلہ سہولت کا نہیں انصاف کا بن چکا ہے آخر میں جناب نذیر آغا ایڈووکیٹ کے جذبے کو ہم بلوچستان والے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.