کوئٹہ کو برسوں سے پاکستان کا سستا ترین شہر قرار دیا جاتا رہا ہے مگر آج یہ دعویٰ ایک تلخ مذاق بن چکا ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ شہر اب سستا نہیں بلکہ عام آدمی کے لیے ایک استحصال گاہ بن چکا ہے جہاں ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں سوال یہ ہے کہ آخر کب تک عوام کو جھوٹی کاروائیوں اور کھوکھلے دعوؤں اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے بہلایا جائے گا آج کوئٹہ میں مہنگائی نے جس بے دردی سے پنجے گاڑے ہیں وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہے عید پر ہر درزی کھلے عام 2500 روپے سلائی کے نام پر وصول کر رہا تھا کوٹ کی سلائی 12000 روپے سے 18000 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے ویسٹ کوٹ 3000 روپے سے 5000 ہزار روپے میں تیار ہو رہا ہے نائی 500 روپے میں صرف بال کاٹنے پر اتفاق نہیں کرتا بلکہ فیشل کے نام پر 2500 روپے وصول کر کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہا ہے یہ سب کچھ اس شہر میں ہو رہا ہے جسے سستا کہا جاتا ہے کھانے پینے کی اشیاء کی صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے ہوٹلوں میں بکرے کے کڑاہی کا گوشت ایک کلو 4500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے 200 گرام کا روش 1500 روپے میں مرغی کی کڑاہی 2500 روپے بکرے کا گوشت قصائی 2500 روپے اور گائے کا گوشت 1600 روپے میں فروخت کر رہا ہے ایک رول جو کبھی 70 روپے کا ہوا کرتا تھا آج 270 سے 300 روپے تک فروخت ہو رہا ہے ایک سادہ پلیٹ بریانی 450 روپے میں فروخت ہو رہا ہے حالانکہ مرغی کی قیمت پہلے سے بہت کم ہے ایک دوست نے پیپسی بوتل کی قیمت فئس بک میں شیئر کی ہے 150 روپے کی بوتل 220 روپے میں فروخت ہو رہی ہے حالانکہ کمپنی کی طرف سے اس پر نرخ نامہ درج ہے سوال یہ ہے جن کے پاس ناجائز پیسہ ہے ان کو تو فرق نہیں پڑتا لیکن سفید پوش شہریوں کی زندگی اجرن ہو چکی ہے یہ قیمتیں نہیں یہ عوام کے ساتھ کھلی ظلم و زیادتی ہے یہ سیدھی سادی تجارت نہیں بلکہ معاشی دہشت گردی ہے جہاں تاجر سرکاری نرخ نامے کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اپنی من مانی کر رہے ہیں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ سفید پوش طبقہ جو کبھی خودداری کی علامت سمجھا جاتا تھا آج نانِ شبینہ کا محتاج ہو چکا ہے ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو جواز بنا کر یہاں ہر تاجر اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہے سوال یہ ہے کہ کیا عالمی جنگوں کا بوجھ صرف کوئٹہ کے عوام نے ہی اٹھانا ہے کیا یہاں کوئی ایسا نظام نہیں جو ناجائز منافع خوری کا گلا گھونٹ سکے صوبائی حکومت کی کارکردگی اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ مایوس کن ہے 4 اسسٹنٹ کمشنرز اور 4 مجسٹریٹس کے ذریعے پورے کوئٹہ کو کنٹرول کرنا خود ایک مذاق ہے یہی وجہ ہے کہ گراں فروش دندناتے پھر رہے ہیں اور قانون کہیں نظر نہیں آتا اگر یہ نااہلی نہیں تو اور کیا ہے صوبائی حکومت کو چاہئے کوئٹہ میں جب تک اضلاع میں اضافہ نہیں کیا جاتا فورا اسسٹ کمشنر اور مجسٹریٹس کی تعداد میں اضافہ کرے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو کنٹرول پرائس کی کمیٹی کی میٹنگ بلا کر اس کا سدباب کرنا چاہئے صوبائی حکومت سڑکوں کی توسیع پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے مگر جیسے ہی کوئی نئی شاہراہ بنتی ہے وہاں رہڑی بانوں کا قبضہ ہو جاتا ہے شاہراہوں کے بیچ میں عارضی دکانیں قائم کر دی جاتی ہیں ٹریفک جام معمول بن چکا ہے اور شہری اذیت کا شکار ہیں ٹریفک پولیس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی کارکردگی محض نمائشی کارروائیوں تک محدود ہے 10 منٹ کے لیے تجاوزات ہٹانا اور اس کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنا کارکردگی نہیں بلکہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے اور اگر کرپشن کی بات کی جائے تو حالیہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی آڈٹ رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ یہاں صرف غفلت نہیں بلکہ منظم لوٹ مار جاری رہا ہے عوامی جائیدادوں کے ٹھیکے اور وسائل اربوں روپے کے گھپلوں کی نذر ہو چکے ہیں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہاں چور اور چوکیدار ایک ہی صف میں کھڑے ہیں جب محافظ ہی لٹیروں کے ساتھ مل جائیں تو عوام کہاں جائیں یہ وقت نرم بیانات کا نہیں بلکہ سخت فیصلوں کا ہے کوئٹہ ڈسٹرکٹ کو فوری طور پر تین اضلاع میں تقسیم کیا جانا چاہیے تاکہ انتظامی گرفت مضبوط ہو گراں فروشوں کے خلاف صرف جرمانے نہیں بلکہ سخت سزائیں دی جائیں ان کے کاروبار سیل کیے جائیں تجاوزات کے خلاف مستقل اور بے رحم آپریشن ہونا چاہیے نہ کہ وقتی ڈرامے اگر اب بھی حکومت اور انتظامیہ نے آنکھیں بند رکھیں تو یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ بھی اس لوٹ مار میں برابر کی شریک ہے عوام اب مزید بیوقوف بنانا درست نہیں
کوئٹہ کو بچانا ہے تو صرف سڑکیں بنانے سے نہیں بلکہ انصاف قائم کرنے سے ہوگا ورنہ یہ شہر واقعی برائے فروخت بن چکا ہے اور خریدار بھی وہی ہیں جو اسے لوٹ رہے ہیں
Comments 0