حکومت بلوچستان نے ایک بار پھر قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ حالات مکمل کنٹرول میں ہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں

حکومت بلوچستان نے ایک بار پھر قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ حالات مکمل کنٹرول میں ہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں
اور واقعی اگر معیار یہ ہو کہ لوگ خوف کے ساتھ جینا سیکھ جائیں تو حالات یقیناً کنٹرول میں ہیں یہ شہر اب اتنا نارمل ہو چکا ہے کہ راکٹ حملے بریکنگ نیوز نہیں رہے چار راکٹ گریں تو لوگ صرف اتنا پوچھتے ہیں کون سا علاقہ تھا اور پھر خاموشی سے موبائل بند کرکے اپنی چائے ختم کر لیتے ہیں ہمارا یہ وہ معاشرہ بن چکا ہے جہاں دہشت گردی حادثہ نہیں روزمرہ کی روٹین لگتی ہے صبح اخبار یا سوشل میڈیا کھولو تو کہیں ٹارگٹ کلنگ کہیں دھماکہ کہیں فائرنگ کہیں لاشیں اور حکومت کا جواب صورتحال قابو میں ہے اگر یہی کنٹرول ہے تو پھر بے قابو حالات شاید وہ ہوں گے جب پورا شہر جل رہا ہو اور حکمران پھر بھی پریس ریلیز میں اطمینان دلا رہے ہوں کہ عوام گھبرائیں نہیں کوئٹہ کے شہری اب خوفزدہ نہیں لگتے کیونکہ مسلسل خوف انسان کے اندر احساس کو مار دیتا ہے بچے اب شاید یہ نہیں پوچھتے کہ آج سکول بند ہوگا یا نہیں بلکہ یہ پوچھنے لگے ہیں ابا آج راکٹ کتنے بجے گرے گا اور المیہ یہ ہے کہ اس سوال پر لوگ ہنس دیتے ہیں کیونکہ ہم نے خوف کو مذاق میں بدل کر جینا سیکھ لیا ہے یہاں پولیس بھی مکمل متحرک ہے شہر کے ہر ناکے پر اہلکار چوکس کھڑے ہیں مگر دہشت گردوں کے لیے نہیں شریف شہریوں کے لیے فیملی کے ساتھ نکلیں تو شناختی کارڈ لائسنس گاڑی کے کاغذات اور کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اگلا مطالبہ دادا کے نکاح نامے کا ہوگا میں اس بابت کئی بار لکھ چکا ہوں مگر سوال یہ ہے کہ یہ سختی آخر کن پر ہے اس مزدور پر جو شام کو تھکا ہارا گھر جا رہا ہوتا ہے یا اس طالبعلم پر جو کوچنگ سے واپس آرہا ہے یا اس مریض پر جو ہسپتال پہنچنے سے پہلے ناکے پر ذلیل ہوتا ہے یا اس فیملی پر جو رات کے وقت اپنے فیملی سے ملنے جا رہے ہوتے ہیں حیرت یہ ہے کہ جس شہر میں راکٹ گر رہے ہو وہاں سیکیورٹی اہلکار زیادہ فکر اس بات کی کرتے ہیں گاڑی میں کس فیملی کے ساتھ کون سی بدتمیزی کرنی ہے گویا ہمارے شہر میں دہشت گردی نہیں ناکوں پر فیملیز کو چیک کرنا سب سے بڑا مسلہ ہو دشمن بھی شاید یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوگا کہ یہ قوم واقعی عجیب ہے راکٹ سہہ لیتی ہے مگر ناکے پر سوال کیے بغیر نہیں گزر سکتی ہے جناب وزیر اعلی صاحب اصل مسئلہ صرف دہشت گردی نہیں اصل مسئلہ حکمرانوں کی بے حسی ہے کیونکہ جب عوام چیخ رہے ہوں اور حکومت کہے سب ٹھیک ہے تو پھر اعتماد مر جاتا ہے حکام بالا اگر واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ حالات کتنے کنٹرول میں ہیں تو ایک دن بغیر پروٹوکول کے کوئٹہ کی سڑکوں پر نکلیں اس ماں کی آنکھوں میں دیکھیں جس کا بچہ سکول سے واپس آنے تک اس کے دل کی دھڑکن بند رہتی ہے اس دکاندار سے پوچھیں جو شام ہوتے ہی خوف کے مارے شٹر گرا دیتا ہے اس نوجوان سے پوچھیں جسے ہر ناکے پر مجرم سمجھ کر روکا جاتا ہے بلوچستان کے لوگ محب وطن ہیں انہوں نے ہر دور میں قربانیاں دی ہیں لاشیں بھی اٹھائیں ہیں جنازے بھی پڑھے ہیں اور خاموشی بھی اختیار کی مگر حب الوطنی کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ راکٹوں کو موسم کا حصہ سمجھ لیں حکومت کی ذمہ داری عوام کو عادی بنانا نہیں محفوظ بنانا ہے امن صرف پریس ریلیز سے قائم نہیں ہوتا امن تب آتا ہے جب شہری خود کو محفوظ محسوس کریں جب دہشت گرد پکڑے جائیں نہ کہ صرف موٹر سائیکل والے نوجوان جب ناکے عوام کی تذلیل کے بجائے مجرموں کی گرفت کے لیے ہوں جب حکمران اعداد و شمار نہیں عوام کے زخم دیکھیں آج کوئٹہ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ راکٹ گرے ہیں المیہ یہ ہے کہ راکٹ گرنے کے بعد بھی حکمران کہتے ہیں گھبرانے کی کوئی بات نہیں عوام اب افواہوں پر یقین نہیں کرتے کیونکہ حقیقت خود افواہوں سے زیادہ خوفناک ہو چکی ہے اور یاد رکھیے چار راکٹ ہوں یا چالیس خوف کی فضا ختم نہیں ہوگی جب تک ریاست عوام کو یقین نہ دلائے کہ ان کی جان واقعی قیمتی ہے یہ اللہ پاک کا کرم ہے کوئی بڑا سانحہ پیش نہیں آیا ورنہ راکٹ پھینکنے والوں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی شہر میں تباہی پھیلانے کی ،

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.