اقلیتی برادری کے لیے حکومتی اقدامات

اقلیتی برادری کے لیے حکومتی اقدامات
اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو بلا امتیاز برابر کے حقوق فراہم کرتا ہے۔پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔بلخصوص اقلیتی برادریاں بلا خوف و خطر اپنی مذہبی عبادات اور رسومات ادا کرتی ہیں۔اقلیتوں کی عبادت گاہیں قانونی تحفظ کے تحت ہیں۔ریاست اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔پاکستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے امن اور رواداری کے ساتھ رہتے ہیں۔اقلیتوں کو اپنے تہوار منانے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔یہی مذہبی رواداری پاکستان کی پہچان ہے۔اگر بات کی جائے بلوچستان کی تو بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں اقلیتوں کا کردار نہایت اہم، مؤثر اور قابلِ دید رہا ہے۔ پاکستان ایک کثیرالمذہبی اور کثیرالثقافتی ریاست ہے جہاں مسلمان اکثریت کے ساتھ ساتھ مختلف اقلیتی برادریاں بھی صدیوں سے آباد ہیں۔ ان اقلیتوں میں ہندو، مسیحی، سکھ، اوڈھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں جنہوں نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی معاشی،تعلیمی، سماجی، صحت، دفاع اور ثقافتی ترقی میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔تعلیم کے شعبے میں اقلیتی برادریوں کا کردار مثالی رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کئی معروف تعلیمی ادارے اقلیتی شخصیات کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ مسیحی مشنری اسکولز اور کالجز نے نہ صرف اقلیتی طلبہ بلکہ اکثریتی طبقے کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم فراہم کی۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ نے بعد میں ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح اساتذہ، پروفیسرز اور تعلیمی ماہرین کی حیثیت سے اقلیتی افراد نے نسلِ نو کی اخلاقی تربیت میں اہم خدمات انجام دیں۔صحت کے شعبے میں بھی اقلیتوں کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ پاکستان کے کئی معروف ڈاکٹر، نرسیں اور طبی ماہرین اقلیتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں انسانیت کی خدمت کی۔ مسیحی نرسوں اور ڈاکٹروں کا کردار خاص طور پر قابلِ تعریف ہے جنہوں نے ہسپتالوں میں دن رات مریضوں کی تیمارداری کو اپنا مشن بنایا۔ ان کی خدمات بلا امتیاز مذہب و نسل تمام شہریوں کے لیے یکساں رہیں۔معاشی اور تجارتی میدان میں بھی اقلیتوں نے بھرپور حصہ ڈالا۔صنعت، تجارت اور کاروبار کے مختلف شعبوں میں اقلیتی افراد نے روزگار کے مواقع پیدا کیے اور قومی معیشت کو مضبوط بنایا۔ پارسی برادری نے صنعت و تجارت میں جو خدمات انجام دیں وہ ملکی ترقی کی روشن مثال ہیں۔ ان کی ایمانداری، محنت اور نظم و ضبط کو ہمیشہ سراہا گیا۔دفاعِ وطن میں بھی اقلیتی شہریوں کی قربانیاں کسی سے کم نہیں۔پاکستان کی مسلح افواج میں اقلیتی افسران اور جوانوں نے مادرِ وطن کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔اعلیٰ فوجی اعزازات حاصل کرنے والے اقلیتی ہیروز اس بات کا ثبوت ہیں کہ حب الوطنی کا تعلق کسی ایک مذہب سے نہیں بلکہ وطن سے محبت سے ہوتا ہے۔ثقافت، کھیل اور سماجی خدمات میں بھی اقلیتوں نے ملک کا نام روشن کیا۔موسیقی، ادب، فلم اور کھیلوں کے میدان میں اقلیتی شخصیات نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی۔سماجی بہبود کے کاموں میں اقلیتی تنظیمیں غربت کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتی ہیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اقلیتیں پاکستان کی ترقی کا ایک مضبوط ستون ہیں۔ ملک کی تعمیر و ترقی اس وقت ہی ممکن ہے جب تمام شہری، بلا امتیاز مذہب و نسل، مساوی حقوق، احترام اور مواقع کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اقلیتوں کے کردار کو تسلیم کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی بلوچستان بھر میں اقلیتی برادری کے مسائل سنجیدہ اقدامات کرنے میں مصروف ہیں ہندو عیسائی اوڈھ سکھ سمیت دیگر اقلیتیوں کے وسیع تر مفاد میں کام کررہے ہیں صوبے بھر میں نوجوان اقلیتوں کو مختلف محکموں میں انہیں ملازمتوں کی فراہمی کو ممکن بنایا جا رہا ہے جبکہ غیر اقلیتی برادری کی بچیوں کی شادیوں اور ہونہار طلباء و طالبات کیلئے وظیفوں کی رقوم کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے تاکہ طلباء و طالبات کو علم کے حصول میں مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اس کے ساتھ ساتھ یہ تمام امور ایک کمیٹی کی شکل میں جاری ہے جس کے چیئرمین ڈپٹی کمشنرز ہیں تاکہ کسی قسم کے خدشات باقی نہ رہیں ان اقدامات کے باوجود صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی نے ضلع نصیرآباد میں پہلی مرتبہ اقلیتی برادری کو اپنے مسائل ضلعی آفیسران کے رُوبرو پیش کرنے کے لیے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے کھلی کچہری وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خصوصی احکامات کی روشنی میں نصیرآباد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منعقدہ کی گئی نصیرآباد ضلع انتظامیہ کی جانب سے تاریخ میں پہلی مرتبہ اقلیتی امور کے تعاون سے اقلیتی برادری کے مسائل سننے اور ان کے فوری تدارک کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، کھلی کچہری ہندو کمیونٹی ہال میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی تھے، ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار،اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ پارلیمانی سیکرٹری اقلیتی امور کے پی ایس روشن راج سمیت بڑی تعداد میں ہندو، عیسائی اور اوڈھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، اس موقع پر شرکاء نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیاکہ انہوں نے نصیرآباد کی اقلیتی برادری کے مسائل ان کی دہلیز پر سننے اور ان کے بہتر حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا، مختلف اقلیتی کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رہنماؤں نے فرداً فرداً اپنے مسائل سے آگاہ کیا جن میں ہندو محلہ میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، آب نوشی و نکاسی? آب، گیس پریشر میں کمی، شمشان گھاٹ کے مسائل، چرچ کی بلڈنگ کی فراہمی، ڈیرہ مراد جمالی سیف سٹی پروجیکٹ، ٹول پلازہ کے مقام پر چینی کی بندش سمیت دیگر درپیش مسائل شامل تھے، کھلی کچہری میں دیگر ضلعی افسران بھی موجود تھے کھلی کچہری کے شرکاء سے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار پنجوانی نے کہا کہ شمشان گھاٹ، چرچ، مندر سمیت اقلیتی برادری کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے موجودہ حکومت سنجیدہ اقدامات کررہی ہے، اوڈھ برادری کی بچیوں کی شادی کے لیے ایک کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جرگے میں چرچ کی بلڈنگ کی تعمیر کے لیے دو کروڑ روپے کا اعلان کیا تھا جس پر جلد عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، تاریخ میں پہلی بار اوڈھ برادری کا مندر بھی موجودہ حکومت تعمیر کر رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ضلع نصیرآباد میں نادرا آفس میں اقلیتی برادری کے لیے علیحدہ ڈیسک قائم کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں آئندہ کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے عوام کی جانب سے کھلی کچہری میں پیش کئے گئے مسائل پر۔ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے متعدد مسائل کے حل کے لئیموقع پر ہی احکامات جاری کیے اور کہا کہ ضلع انتظامیہ اقلیتی برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے آج خود ان کی دہلیز پر موجود ہے تاکہ مسائل معلوم کر کے فوری اقدامات کیے جائیں، ہم اقلیتی برادری کو کسی صورت مسائل تلے نہیں چھوڑیں گے، بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو پروگرام کے تحت اقلیتی برادری کے لیے بھی متعدد اسکیمات شامل ہیں جن کی تکمیل سے مسائل میں نمایاں بہتری آئے گی۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اقلیتیں بلوچستان اور پاکستان کی ترقی کا ایک مضبوط ستون ہیں۔ ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ بلوچستان اسی وقت ممکن ہے جب تمام شہری بلا امتیاز مذہب و نسل مساوی حقوق، احترام اور مواقع کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اقلیتوں کے کردار کو تسلیم کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ نہ صرف آئینی تقاضا ہے بلکہ ایک روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.