یورپ کے کئی ممالک نے ڈنمارک کی حمایت کے اظہار کے طور پر گرین لینڈ میں اپنے فوجی بھیجے ہیں، تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اس سے جزیرے کو حاصل کرنے کے صدر ٹرمپ کے ارادے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
جرمنی اور فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک کے فوجی جمعرات کے رو زگرین لینڈ پہنچنا شروع ہوئے، جسے انہوں نے ایک تفتیشی (ریکانائسنس) مشن قرار دیا ہے۔
یہ فوجی تعیناتی اور عسکری نقل و حرکت امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اس اسٹریٹجک اہمیت کے حامل آرکٹک جزیرے کے مستقبل پر اختلافات کے تناظر میں ہو رہی ہے۔
گرین لینڈ کی آبادی 57 ہزار سے بھی کچھ کم ہے اور یہ مملکتِ ڈنمارک کا ایک نیم خودمختار علاقہ ہے، جبکہ اس کے دفاع اور خارجہ پالیسی کی ذمہ داری ڈنمارک کے پاس ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے یورپی ممالک کی جانب سے فوج کی تعیناتی کے مشن کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صدر ٹرمپ کے فیصلے یا گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے ہدف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہا، "صدر نے اپنی ترجیح بالکل واضح کر دی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ گرین لینڈ کو حاصل کرے۔ ان کے نزدیک یہ ہمارے قومی سلامتی کے بہترین مفاد میں ہے۔"
Comments 0