صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر نئی دہلی حکومت روسی تیل کی خریداری روکنے کے مطالبے پر عمل نہیں کرتی تو امریکہ بھارت پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔ ایئر

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر نئی دہلی حکومت روسی تیل کی خریداری روکنے کے مطالبے پر عمل نہیں کرتی تو امریکہ بھارت پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔ ایئر
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر نئی دہلی حکومت روسی تیل کی خریداری روکنے کے مطالبے پر عمل نہیں کرتی تو امریکہ بھارت پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’(وزیراعظم نریندر) مودی اچھے آدمی ہیں۔ انہیں پتا تھا کہ میں خوش نہیں ہوں اور مجھے خوش رکھنا اہم تھا۔‘‘ بھارت کی طرف سے روسی تیل کی خریداری کے سوال پر انہوں نے کہا، ’’وہ تجارت کرتے ہیں اور ہم ان پر بہت جلد ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔‘‘ بھارت کے وزارت تجارت نے تبصرے کے لیے فوری جواب نہیں دیا۔ ٹرمپ کا یہ تازہ بیان کئی ماہ سے جاری تجارتی مذاکرات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ گزشتہ سال امریکہ نے بھارتی اشیا پر درآمدی ٹیرف 50 فیصد تک بڑھا دیے تھے، جو روسی تیل کی بھاری خریداری کی سزا تھے۔ ٹرمپ کے اس تازہ بیان کے بعد پیر کو بھارتی منڈیوں نے ردعمل دیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اسٹاک انڈیکس 2.5 فیصد گر گیا کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تجارت تعلقات میں کشیدگی امریکہ اور بھارت کے مابین تجارت معاہدے میں مزید تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔ ٹرمپ کے قریبی اتحادی ریپبلکن سینیٹر لنڈزے گراہم، جو ان کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، نے کہا کہ روسی تیل کمپنیوں پر امریکی پابندیاں اور بھارت پر زیادہ ٹیرف نے بھارتی درآمدات کم کرنے میں مدد دی ہے۔ گراہم ایک بل کی حمایت کر رہے ہیں، جو بھارت جیسے ممالک پر روسی تیل خریدنے کی صورت میں 500 فیصد تک ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر آپ سستا روسی تیل خرید رہے ہیں تو پوٹن کی جنگی مشین کو چلنے میں مدد دے رہے ہیں۔‘‘ بھارت اس وقت امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے لیکن یہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.