پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر کی شمسی توانائی پر منتقلی، ماہرین کا فوری اصلاحات اور شفاف فنانسنگ پر زور

پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر کی شمسی توانائی پر منتقلی، ماہرین کا فوری اصلاحات اور شفاف فنانسنگ پر زور
اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):پاکستان کو درپیش موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے اور برآمدی مسابقت بڑھا کر صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے فوری اصلاحات ضروری ہیں۔ یہ سفارشات مختلف شعبوں کے ماہرین نے "پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی شمسی توانائی پر منتقلی میں کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بی) کے کردار” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پیش کیں۔ سیمینار کا انعقاد پاکستان میں کلین انرجی کو فروغ دینے کے لئے کام کرنے والے ادارے الٹرنیٹ ڈویلپمنٹ سروسز (اے ڈی ایس) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر اے ڈی ایس کے سی ای او امجد نذیر کی میزبانی میں اکیڈیمیا، انڈسٹری، معیشت، توانائی، مالیات، پالیسی سازی اور سول سوسائٹی کے 50 سے زائد ماہرین نے ایم ڈی بی فنانسنگ کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے، ٹیکسٹائل سیکٹر میں شمسی توانائی اپنانے کے رجحان کو تیز کرنے اور موسمیاتی انصاف کے تحت ملک پر قرضوں کا مزید بوجھ ڈالنے سے بچنے کے لیے قرضوں سے نجات اور رعایتی فنانسنگ کے لئے سفارشات پیش کیں اور ایڈووکیسی پر زور دیا۔ نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ انرجی سسٹم ان انجینئرنگ، یو ایس پی کیس کے سربراہ ڈاکٹر علی عباس کاظمی اور اے ڈی ایس کے انرجی ٹرانزیشن آفیسر عثمان بن احمد نے فیصل آباد اور ملتان کی 80 ٹیکسٹائل ملوں سے حاصل کردہ ابتدائی ڈیٹا پر مبنی تحقیقی مطالعہ پیش کیا جس میں 237 میگاواٹ کی نصب شدہ سولر کیپیسٹی کا جائزہ لیا گیا تھا۔ کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بی) کی پالیسیوں پر تحقیقی مطالعہ مرکزی مصنف توانگر کاظمی نے پیش کیا۔ یہ تحقیقی مطالعہ ورلڈ بینک گروپ کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک کی کنٹری پارٹنرشپ سٹریٹجی کی پاکستان کے قومی فریم ورکس جیسے این ڈی سی 3.0، آئی جی سی ای پی اور نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن پالیسی کے تجزئیے پر مشتمل تھا۔ نیپرا کی کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائیلٹرل کانڑیکٹس مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت شمسی توانائی کے فروغ میں حائل رکاوٹوں اور مواقع کے موضوع پر ہونے والے سیشن میں ماہر معیشت و توانائی ڈاکٹر عافیہ ملک، قرۃ العین چیمہ (سی ای او، جی ای این II) اور عامر عمران (مینجر کمپلائنس اینڈ سسٹین ایبلٹی، کوہ نور ٹیکسٹائل ملز) نے یوز آف سسٹم چارجز (یو او ایس سی) اور پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی اے) میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بہتری کے لئے تجاویز پیش کیں۔ عامر عمران نے کوہ نور ٹیکسٹائل کی کیس سٹڈی کے تناظر میں یورپی یونین کے لئے برآمدات پر عائد "کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکنزم” کے حوالے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی اداروں (ایس ایم ایز) کو شمسی توانائی پر منتقل ہو کر کاربن کے اخراج میں کمی کے حوالے سے درپیش مسائل کی نشاندہی کی۔ صنعتوں میں کاربن کے اخراج میں کمی کے لئے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بی) کی ترجیحات سے متعلق سیشن میں ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک پالیسی ایڈوائزر زبیر فیصل عباسی نے تحقیقی مطالعہ کی تعریف کرتے ہوئے مائیکرو لیول سروے اور انرجی ٹرانزیشن میں بحالی انصاف پر زور دیا۔ ڈیبٹ اینڈ ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ عبدالخالق نے کہا کہ 70 فیصد موسمیاتی فنانسنگ قرضوں کی شکل میں آتی ہے جس سے گلوبل ساؤتھ ممالک پر قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ ماہر معیشت و توانائی ڈاکٹر عافیہ ملک نے کہا کہ ایم ڈی بی کی پالیسیاں پاکستان کی زمینی حقیقتوں سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ سماجی محقق اور اے این پی کے کلچرل سیکرٹری ڈاکٹر خادم حسین نے ضرورت سے زیادہ پیداوار، بین الاصوبائی عدم مساوات اور اشرافیہ کو دی جانے والے سبسڈیز پر تنقید کرتے ہوئے ان مسائل کے حل پر زور دیا ۔ اے ڈی ایس کے سی ای او امجد نذیر نے سیمینار کے اختتام پر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے توانائی بحران کو سیاق و سباق میں رکھتے ہوئے مربوط پالیسیاں تشکیل دینے پر زور دیا۔ انہوں نے ڈیبٹ جسٹس کو موسمیاتی ایکشن کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں قرضوں سے بڑھ کر گرانٹس کے لئے ایڈوکیسی کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کے 2 ارب ڈالر ماہانہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے موجودہ بوجھ میں مزید اضافہ نہ ہو۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.