نیویارک(بی بی سی )امریکہ کی اعلیٰ انٹیلی جنس اہلکار نے کہا کہ ایرانی حکومت ’قائم‘ ہے لیکن ’بڑی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔‘نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تِلسی گبارڈ اور ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے کانگریس کی سماعت میں دو گھنٹے سے زائد وقت تک امریکہ کو درپیش عالمی خطرات پر بریفنگ دی۔ یہ جنگ کے آغاز (یعنی فروری کے آخر) کے بعد انٹیلی جنس پر پہلی عوامی بریفنگ تھی۔یہ بریفنگ امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ کے استعفے کے بعد ہوئی جنھوں نے کہا تھا کہ ایران امریکہ کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا۔نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تِلسی گبارڈ نے مزید کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں مسائل کی پیش گوئی کی تھی، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری تجارتی راستہ ہے۔ ان کے مطابق ’انٹیلی جنس کمیونٹی کا اندازہ ہے کہ ایران کی حکومت بظاہر قائم ہے، لیکن قیادت اور فوجی صلاحیتوں پر حملوں کے باعث بڑی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔‘تلسی گبارڈ نے سی آئی اے، ایف بی آئی، نیشنل سکیورٹی ایجنسی اور ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہان کے ساتھ یہ بریفنگ دی۔ تاہم انھوں نے بار بار سوال کرنے پر بھی سینیٹر جان اوسوف کو یہ جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا ایران کو فوری خطرہ سمجھا گیا تھا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ کہ کون سا خطرہ فوری ہے اور کون سا نہیں، صرف صدر ہی کر سکتے ہیں۔‘جنگ کے آغاز سے ہی دونوں جماعتوں کے قانون ساز اور تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کیوں کیا اور آیا ٹرمپ انتظامیہ کو آبنائے ہرمز میں ممکنہ مسائل کا علم تھا یا نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے حملہ اس لیے کیا کیونکہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا تھا، جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے خطرہ تھے۔
Comments 0