برطانوی وزیر برائے ورکس اور پنشن کے پیٹ مِک فیڈن کا کہنا ہے کہ نیٹو کے دفاعی اتحاد کا قیام ’اس قسم کی صورت حال کو ذہن میں رکھ کر نہیں کیا گیا تھا جیسی ہم مشرق وسطیٰ میں دیکھ رہے ہیں۔‘
نیٹو کی بنیاد امریکہ اور برطانیہ سمیت 12 ممالک نے 1949 میں رکھی تھی اور اس کے بنیادی اصولوں میں سے ایک آرٹیکل پانچ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک کے خلاف حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
اس سے قبل برطانیہ کے سابق چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل سر نک کارٹر نے کہا تھا کہ نیٹو ایسا اتحاد نہیں جس میں اتحادیوں میں سے کوئی ایک اپنی مرضی سے جنگ شروع کرے اور پھر باقی سب کو اس میں شامل ہونے پر مجبور کیا جائے۔
جب مِک فیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس سے متفق ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جنرل کارٹر ٹھیک‘ کہہ رہے ہیں اور انھوں نے موجودہ تنازع کو ’نیٹو جنگ نہیں‘ بلکہ ’امریکی اور اسرائیلی کارروائی‘ قرار دیا۔
Comments 0