غزہ کی عارضی پناہ گاہوں میں آتشزدگی کے واقعات سے بے گھر خاندانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اقوام متحدہ

غزہ کی عارضی پناہ گاہوں میں آتشزدگی کے واقعات سے بے گھر خاندانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینی خاندانوں کو انتہائی بھیڑ بھاڑ والی عارضی پناہ گاہوں میں کھانا پکانے کے لیے جلائی جانے والی آگ سے شدید خطرات لاحق ہیں ۔چینی خبررساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے)نے ایک بیان میں کہی۔ او چا کا کہنا ہے کہ خاندان چھوٹی جگہوں پر کھانا پکاتے، سوتے اور اپنا سامان رکھتے ہیں، یہ عمل نہ صرف آگ لگنے کے خطرے کو بڑھاتا ہے بلکہ رہائشیوں کی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2025 سے ہمارے شراکت داروں نے ان پناہ گاہوں میں12 آتشزدگی کے واقعات ریکارڈ کیے ہیں، 17 فروری تک کے دس دنوں کے دوران انسانی ہمدردی کے کارکنوں نے دیر البلح اور خان یونس میں 85 خاندانوں کو پناہ گاہ کی سہولت فراہم کی جن کی رہائش گاہیں غزہ شہر میں آگ لگنے سے متاثر ہوئی تھیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بے گھر خاندانوں کو ایسے مناسب ٹھکانے کی ضرورت ہے جو انہیں موسمی اثرات سے بچائے اور زیادہ رازداری فراہم کرے، انسانی ہمدردی کے شراکت دار ایک بار پھر زیادہ پائیدار حل کی فوری ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ اوچا کے مطابق انسانی ہمدردی کے کارکن طویل عرصے سے اسرائیل سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ غزہ کی پٹی میں زیادہ اور پائیدار پناہ گاہوں کا سامان داخل ہونے کی اجازت دے، کئی علاقوں میں انسانی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کے لیے اب بھی اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطہ اور منظوری درکار ہوتی ہے۔ ادارے نے بتایا کہ 12 سے 19 فروری کے درمیان مربوط 67 سرگرمیوں میں سے 43 کی منظوری دی گئی جبکہ 9کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا، آٹھ مشنز کو منظوری تو ملی لیکن انہیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے چھ مکمل طور پر انجام دیے گئے۔مغربی کنارےمیں بھی او سی ایچ اےنے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز اور آبادکار برادریوں کی جانب سے جاری تشدد اور دیگر جبر پر مبنی اقدامات کے نتیجے میں جانی نقصان، املاک کی تباہی اور لوگوں کی بے دخلی جاری ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.