واشنگٹن (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیاں ضرورت پڑنے پر4سے 5 ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کی نظر میں ایران کی قیادت کے لیے تین اچھے امیدوار موجود ہیں۔ بی بی سی کے مطابق نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو میں انہوں نے وینزویلا کی مثال دی جہاں سابق صدر نکولس مادورو کو پکڑنے کے بعد امریکا لایا گیا تھا۔ یعنی وینزویلا میں صدر کو ہٹائے جانے کے باوجود حکومت تبدیل نہیں کی گئی اور شاید ایران میں بھی ایسا ہی کیا جائے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل چار سے پانچ ہفتوں تک اسی شدت کے ساتھ ایران پر حملے جاری رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مشکل نہیں ہو گا۔ ہمارے پاس بڑی تعداد میں ہتھیار ہیں جو دنیا بھر میں مختلف ملکوں میں ذخیرہ کیے گئے ہیں ۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کے پاس ایران کی قیادت کے لیے تین بہترین امیدوارہیں تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ ٹرمپ نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا لاریجانی ایرانی حکومت کے نئے سربراہ ہوں گے۔ جب ان سے ایران میں طاقت کی منتقلی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایرانی فوجی قیادت بشمول پاسداران انقلاب ایرانی عوام کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ جو ہم نے وینزویلا میں کیا، میرا خیال ہے کہ وہ بہترین صورتحال ہے۔
انہوں نے جواز پیش کیا کہ جو وینزویلا میں کارگر ثابت ہوا وہ ایران میں بھی کارگر ثابت ہو گا، سبھی لوگ اپنے عہدوں پر برقرار رہے سوائے دو لوگوں کے۔ایران کی سربراہی کے لیے تین اچھے امیدواروں کا ذکر کرنے کے بعد ٹرمپ نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ ایرانی عوام موجودہ حکومت کا تخت الٹ دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کئی برسوں سے اس بارے میں بات کر رہے ہیں اور اب ان کے پاس موقع ہے۔انھوں نے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ خلیج فارس میں عرب ریاستوں کو بھی ایران کے خلاف امریکی حملوں میں حصہ لینے کی ضرورت ہو گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ انھیں توقع ہے کہ اگر نئی ایرانی قیادت پُرامید شراکت دار ثابت ہوتی ہے تو وہ ایران پر عائد معاشی پابندیاں ختم کر سکتے ہیں۔ ایرانی عوام کے موجودہ حکومت کے خلاف بغاوت کی ممکنہ کوشش پر ان کی مدد کے حوالے سے سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ میں کوئی وعدہ نہیں کر سکتا، یہ قبل از وقت ہے۔
Comments 0