سوڈان کے وسطی علاقے کردفان کی مصروف مارکیٹ پر ڈرون حملے میں 28 ا فراد ہلاک

سوڈان کے وسطی علاقے کردفان کی مصروف مارکیٹ پر ڈرون حملے میں 28 ا فراد ہلاک
خرطوم۔(اے پی پی):سوڈان کے وسطی علاقے کردفان میں ایک مصروف مارکیٹ پر ڈرون سے فائر کیے گئے میزائل حملے میں 28 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شہریوں کے خلاف تشدد کی نگرانی کرنے والے گروپ ’’ایمرجنسی لائرز‘‘ نے ایک بیان میں کہا ہےکہ ڈرونز نے شمالی کردفان ریاست کے قصبے سودری میں الصفیہ مارکیٹ پر بمباری کی۔ یہ بمباری اس وقت ہوئی جب مارکیٹ میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ایمرجنسی لائرز کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کا بار بار استعمال شہری جانوں سے سنگین بے اعتنائی ظاہر کرتا ہے اور اس خطرناک پیش رفت کا اشارہ ہے جو صوبے میں روزمرہ کی زندگی کی صورت حال کو خطرے میں ڈال رہی ہے ، لہٰذا ہم تنازع کے دونوں فریقین سے ڈرون حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ واضح رہے کہ یہ علاقہ سوڈانی فوج اور نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان تین سالہ جنگ میں اس وقت سب سے زیادہ کشیدگی کا شکارہے۔سودری ایک دور افتادہ قصبہ ہے جہاں صحرائی تجارتی راستے ملتے ہیں۔ یہ شمالی کردفان کے دارالحکومت الوبید سے 230 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز مہینوں سے اس پر کنٹرول کی کوشش کر رہی ہے۔حالیہ عرصہ میں کردفان کے علاقے میں ڈرون حملوں میں خطرناک اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں فریق ملک کے اہم مشرقی مغربی محور پر کنٹرول کے لیے لڑ رہے ہیں، جو مغرب میں آر ایس ایف کے زیرقبضہ دارفور علاقے کو الوبید کے راستے فوج کے زیرکنٹرول دارالحکومت خرطوم اور باقی سوڈان سے ملاتا ہے۔ گزشتہ سال دارفور پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے بعد، آر ایس ایف نے سوڈان کے مرکزی راستے پر قبضے کی کوشش میں تیل اور سونے سے مالامال کردفان کے راستے مشرق کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ ایمرجنسی لائرز نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مارکیٹ کو نشانہ بنانے والے ڈرونز فوج کے تھے تاہم دو فوجی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوج شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بناتی اور انہوں نے اس حملے کی تردید کی۔ایک ہفتہ قبل شمالی کردفان کے شہر راہد کے قریب ایک ڈرون نے بے گھر خاندانوں کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا، جس میں 8 بچوں سمیت 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے سے ایک روز قبل ورلڈ فوڈ پروگرام کا امدادی قافلہ بھی ڈرونز کا نشانہ بنا تھا۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.