صوبے بھر کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا ایک دفعہ پھر بند - گزشتہ کچھ وقت سے حکومت بلوچستان نے ایک نیا طریقہ کار اختیار کر لیا ہے یہاں حالات خراب وہاں انٹرنیٹ سروس معطل ۔ یہ کوئی کھیل یا مزاق نہیں ہے سیکورٹی خدشات کی بنا پر آپ ہر کچھ دن بعد عوام کو مینٹل ٹارچر نہیں کر سکتے ۔ کس قانون کے تحت آپ عوام کی مرضی جانے بنا سروس معطل کرتے ہیں ۔ وہ نوجوان جو آن لائن کام کرتے ہیں اپنا رزق کماتے ہیں ، وہ نوجوان جو گھر بیٹھے پڑھائی کرتے ہیں ، وہ والدین جو گھر میں فارغ اوقات میں کچھ انٹرٹینمنٹ دیکھتے ہیں ، آپ ان سب سے یہ حق کیسے چھین سکتے ہیں ۔ بروز ہفتہ اکتیس جنوری سے انٹرنیٹ ڈیٹا سروس معطل ہے ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔۔ سیکورٹی اداروں کی نا اہلی کو عوام کے حقوق سے کون بدلتا ہے؟ سرکار کو چاہیے کہ وہ اپنے حفاظتی انتظامات میں ایڈوانس طریقہ لائے ، نا کہ اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے عوام سے سچ و جھوٹ جاننے کا حق چھینے ۔
اخبارات سے لے کر سوشل میڈیا تک آپ قوانین کے
ساتھ چل سکتے ہو ، خلاف ورزی کرنے والوں پر سزا و جرمانہ کر سکتے ہو ۔ لیکن یہ حق نہیں چھین سکتے کہ آنکھوں دیکھا حال آپ چھپا لو ، ان لائن فوٹیج چھپانے کے لیے آپ سارے شہر کا انٹرنیٹ ڈیٹا بند کر دو ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ۔ دنیا 5G کے ساتھ سڑکوں پہ گھوم رہی ہے یہاں صوبے کے دارالحکومت میں ہی موبائل انٹرنیٹ بند ، شہر کے مختلف علاقوں میں سروس اب تک نہیں پہنچ سکی .. عوام بیوقوف نہیں ہے نا ہی آپ انہیں بنا سکتے ہو ، ایسے بچگانہ اقدامات حکومت کو کمزور و چور بناتے ہیں عوام کی نظروں میں ۔ اگر سیکیورٹی اداروں کے سسٹم دشمنوں کے سسٹم سے کمزور ہیں تو انہیں ٹھیک کیا جائے ، نا کہ عوام کے حق پہ ڈاکہ ڈالا جائے ۔ جب اپنا ہی سسٹم کمزور ہے تو ہے لگام عوام سے کیا ہی گلہ کرنا ۔ وہ طبقہ جس کا انحصار موبائل انٹرنیٹ پر ہے جس کے لیے وہ مختلف مختلف سپر کارڈز ، اور نیٹ پیکجز کرواتی ہے ، اس کا حساب کون دے گا ۔ وہ کون جوابدہ ہے کہ ان پانچ چھ دنوں کے Mbs انہیں لوٹائے جائیں گے ، جن کے پیکجز بغیر استعمال کے ایکسپائر ہو رہے ہیں وہ کیا کریں گے ؟ اس سب کا زمہ دار اور جوابدہ کون ہے ؟ کیا عوام دوسری مشکلات کے ساتھ ساتھ اب اس مسلہ سے بھی
لڑے گی ، یوتھ کی بات ، نوجوانوں کی بات کرتے ہیں بڑے بڑے پروگرامز چلاتے ہیں ، ان پروگراموں میں شریک جوان جب گھر جاتا ہے تو گھر میں انٹرنیٹ نہیں وہ کیسے صوبے کی ترقی کے بارے میں سوچ سکتا ہے پھر ، آپ ایسے جوانوں کو سوچنے سے روک نہیں سکتے ، باغی ہونے سے روک نہیں سکتے ۔۔ جہاں ہماری سرکار بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں یوتھ کے نام پہ بڑے بڑے بجٹ دیتی ہے تو اس سب کا فائدہ کہاں ، کب ، اور کسے ہو رہا ہے ؟؟ کیوں سرکار ایسی بچگانہ فیصلے کرتی ہے یہاں دشمن کا حملہ وہاں انٹرنیٹ بند ۔ اب ساری عوام صرف وہ دیکھے گی تو ہماری سرکار دکھانا چاہتے گی ۔ یہ کہاں کا تضاد ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے سرکار سے گزارش ہے ہوش کے ناخن لیں اور مضبوط اقدامات کریں ۔ جہاں لوگوں کی جان و مال کے ساتھ ان کے حقوق بھی محفوظ رہے ۔ سیکورٹی کا سسٹم مضبوط کریں جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیں ، نا کہ انٹرنیٹ ڈیٹا بند کریں ۔ حالات کا اندازہ لگائیں جس مسلے پہ تحریر لکھی ہے اس کو اپلوڈ کرنے میں بھی مسلہ ہے انٹرنیٹ ڈیٹا کے نا ہونے کا مسلہ افسوس صد افسوس
لہذا اسے اپلوڈ کرنے کے لیے وہ مقام و وقت دیکھا
جائے گا جہاں سے یہ اپلوڈ ہو سکے ۔ اور شاید سرکار کی نظروں سے ہوتے ہوئے انہیں کچھ سوچنے پر مجبور کرے ۔
Comments 0