ہم نے الاسکا مذاکرات میں یوکرین بارے امریکا کی تجویز کو قبول کر لیا ہے ، روسی وزیر خارجہ

ہم نے الاسکا مذاکرات میں یوکرین بارے امریکا کی تجویز کو قبول کر لیا ہے ، روسی وزیر خارجہ
ماسکو (اے پی پی):روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے الاسکا مذاکرات میں یوکرین بارے امریکا کی تجویز کو قبول کر لیا ہے اور اگر فریقین آسان اور قابل فہم رویے کا مظاہرہ کریں تو یہ مسئلہ حل ہوجا نا چاہیے۔ تاس کی رپورٹ کے مطابق ٹی وی برکس انٹرنیشنل نیٹ ورک کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن نے بارہا کہا ہے کہ روس کے لیے بنیادی اہمیت یوکرین کے مسئلے کی ہے ، اس کے لئے یہ غیر متعلقہ ہے کہ یوکرین یا یورپ میں کیا کہا جائے گا کیونکہ ہم یورپی یونین کی زیادہ تر حکومتوں میں گہری جڑیں رکھنے والے روسو فوبیا کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے لیے امریکا کا موقف زیادہ اہم تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی تجاویز کو قبول کرنے کے بعد ہم نے بنیادی طور پر یوکرین کے مسئلے کو حل کرنے اور جامع، وسیع، باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کی طرف بڑھنے کا کام پورا کیا ۔تاہم عملی طور پر اس کے برعکس ہوتا ہے ، نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بین الاقوامی پانیوں میں ٹینکرز پر حملے کیے جاتے ہیں، اور بھارت اور دیگر شراکت داروں کی سستی روسی توانائی خریدنے کے لیے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، جب کہ یورپ نے طویل عرصے سے اس طرح کی خریداریوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس سے وہ امریکی قدرتی گیس زیادہ قیمت پرخریدنے پر مجبور ہیں ۔ اس سب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی دائرہ کار میں امریکا نے اپنے واضح اہداف کا اعلان کر رکھا ہے اور یہ ہدف اقتصادی غلبہ حاصل کر نا ہے ۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.