8 فروری کے انتخابات، عوامی بےچینی اور آئین کے تحفظ کی بلند ہوتی آواز

8 فروری کے انتخابات، عوامی بےچینی اور آئین کے تحفظ کی بلند ہوتی آواز
8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان کی سیاسی فضا میں آج بھی شدید بےچینی، سوالات اور شکوک اب تک برقرار ہے۔ عوام کے بڑے طبقے میں انتخابی نتائج پر عدم اطمینان وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہری سیاسی اور آئینی بےاعتمادی کی علامت ہے۔ جس نے ریاستی نظام، جمہوری اقدار اور آئنی عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیئے ہیں اور یہی بےاعتمادی تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے دی گئی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال کی بنیاد بھی بنی، جو محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک اجتماعی عوامی آواز بن کر اُبھری۔ جمہوریت کی بنیاد شفاف، آزاد اور غیرجانبدار انتخابات پر ہوتی ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے ووٹ کی حرمت مشکوک ہوگئی ہے یا انتخابی عمل متاثر ہوا ہے، تو ریاست اور عوام کے درمیان قائم اعتماد ڈگمگانے لگتا ہے۔ 8 فروریکے انتخابات کے بعد ملک دیگر صوبوں بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں خاص طور پر یہی کیفیت سامنے آئی، جہاں لوگوں نے نتائج کو عوامی رائے کے منافی قرار دیا اور کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے پلیٹ فارم پر مختلف جماعتوں کا یکجا ہونا ثابت کرتا ہے کہ معاملہ محض ایک جماعت یا ایک صوبے تک محدود نہیں۔ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال نے اگرچہ عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا، مگر اس نے ریاستی اداروں تک ایک واضح پیغام ضرور پہنچایا کہ جمہوری عمل صرف انتخابی دن تک محدود نہیں، اصل قوت عوامی اعتماد ہے۔ بند مارکیٹیں، سنسان سڑکیں اور رکے ہوئے کاروبار دراصل ایک خاموش مگر طاقتور احتجاج تھے جو چیخ چیخ کر یہ سوال اٹھا رہے تھے: کیا عوام کے مینڈیٹ کو صحیح معنوں میں تسلیم کیا گیا؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قسم کے احتجاج سے سب سے زیادہ متاثر عام شہری ہی ہوتا ہے، جس کی روزی، نقل و حرکت اور معمولات زندگی رک جاتے ہیں۔ لیکن جب آئینی راستے عوام کو غیر مؤثر محسوس ہونے لگیں، جب شفاف تحقیقات اور مؤثر احتساب کا عمل غائب ہو، تو لوگ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں ریاست اور حکومت کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ طاقت کی بجائے مکالمے، شفاف تحقیقات اور بروقت آئینی اصلاحات کے ذریعے اعتماد کو بحال کرے جو کمزور ہو چکا ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہمیشہ سیاسی بحران، عدم استحکام، مسلسل احتجاج اور سیاسی بحران کی صورت میں نکلتا ہے۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کو دبانے کے بجائے سنجیدگی سے سنا جائے۔ مضبوط انتخابی اصلاحات، آزاد ادارے، عدالتی نگرانی اور پارلیمانی مکالمہ ہی وہ راستے ہیں جو ملک کو مزید سیاسی تصادم سے بچا سکتے ہیں۔ تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی جانب سے دی گئی ہڑتال محض احتجاج نہیں بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہے کہ عوام اب خاموش نہیں رہیں گے۔ یہ ریاست کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ووٹ کے تقدس کو عملی طور پر ثابت کرے۔ اگر اس موقع کو نظر انداز کیا گیا تو عوام اور ریاست کے درمیان فاصلہ اور تنازعہ مزید بڑھ جائے گا، اور اس کی قیمت بالآخر عام شہری کو ہی ادا کرنی پڑے گی۔ جمہوریت محض اقتدار کا نام نہیں، بلکہ یہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہے۔ اس رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ 8 فروری کے انتخابات سے جڑے خدشات کو دور کیا جائے، عوامی بیانیہ کو سنا جائے اور آئین کو فیصلہ ساز عمل کا مرکز بنایا جائے۔ یہی راستہ ملک کے سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.