بی این پی بنگلہ دیش کے 13 ویں عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیاب، جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر

بی این پی بنگلہ دیش کے 13 ویں عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیاب، جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر
ڈھاکہ (اے پی پی):بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)نے ملک میں گزشتہ روز منعقد ہونے والے 13 ویں عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی ۔اردو نیوز کے مطابق بی این پی اور اتحادیوں نے کُل 300 نشستوں میں سے 209 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے اور قومی اسمبلی کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔اسی طرح حریف جماعت اسلامی کے حصے میں 68 نشستیں آئی ہیں، اسی طرح نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ سیٹیں جیت پائی ہے۔ بنگلہ دیش میں عام انتخابات گزشتہ روز منعقدہوئے جو جین زی کی جانب سے چلائی گئی اس احتجاجی لہر کے بعد منعقد ہوئے جس کے نتیجے میں بھارت کی اتحادی شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا، جس کے بعد وہ بھارت چلی گئیں اور اب بھی وہیں ہیں جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بھی پایا جاتا ہے۔جمعرات اور جمعے کی درمیان رات ہونے والی گنتی کے بعد جب بی این پی کی اکثریت سامنے آئی تو پارٹی کی جانب سے عوام کا شکریہ ادا کیا گیا اور اپیل کی گئی کہ جمعے کی نماز کے بعد ملک کی ترقی کے لیے خصوصی دعا مانگیں۔ بی این پی کی قیادت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان مطابق وسیع اکثریت سے جیتنے کے باوجود کسی قسم کا کوئی جشن منایا جائے گا نہ ہی کوئی ریلی نکالی جائے گی۔بیان میں عوام پر زور دیا گیا کہ وہ مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور دوسری عبادت گاہوں میں جا کر خدا کا شکر ادا کریں۔ بی این پی کی قیادت وزرات عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کر رہے ہیں جو سابق وزیراعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیاالرحمان کے بیٹے ہیں اور ان کی عمر 60 سال ہے۔ ان کی جانب سے چلائی گئی انتخابی مہم میں غریب خاندانوں کی مدد کرنے کے علاوہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے 10 سال کی حد، غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو سازگار بنانے اور انسدادِ بدعنوانی کے خلاف اقدامات کے نکات شامل تھے۔ بی این پی کی سب سے بڑی حریف جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنی شکست کو تسلیم کرتی ہے اور وہ مخالفت کی سیاست کے بجائے مثبت سیاست کے تحت آگے بڑھے گی۔عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے جمعرات کو ووٹ ڈالنے کے بعد الیکشن کو ڈراؤنے خواب کا خاتمہ اور نئے سپنے کا آغازقرار دیا تھا۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.