گردے جسم کے دو اہم اعضاء ہیں جو پسلیوں کے نیچے موجود ہوتے ہیں اور 24 گھنٹے جسم کے نظام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ خون کو صاف کرتے ہیں، فاسد مادوں کو خارج کرتے ہیں، پانی اور نمکیات کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں، بلڈ پریشر کو منظم کرتے ہیں، الیکٹرولائٹس کا توازن قائم رکھتے ہیں اور جسم میں مائعات کی مقدار کو منظم کرتے ہیں۔گردوں کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اسی وجہ سے ہر سال مارچ کے دوسرے جمعرات کو ورلڈ کڈنی ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ عالمی مہم انٹرنیشنل سوسائٹی آف نفرولوجی (ISN) اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف کڈنی فاؤنڈیشنز (IFKF) کے اشتراک سے شروع کی گئی ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں گردوں کی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا، جلد تشخیص کی ضرورت پر زور دینا اور مزمن گردوں کی بیماری (Chronic Kidney Disease ـ CKD) سے بچاؤ کے اقدامات اپنانا ہے، جو دنیا بھر میں 850 ملین سے زائد افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ماہرین کے مطابق ہر 10 میں سے 1 فرد کسی نہ کسی درجے میں گردوں کی بیماری کا شکار ہے۔ اس کے بڑے اسباب میں شوگر، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، غیر صحت مند طرزِ زندگی، غیر معیاری خوراک، صاف پانی کی کمی، پانی کا کم استعمال اور بعض ادویات کا غیر ضروری استعمال شامل ہیں۔ اکثر افراد کو بیماری کا پتہ تب چلتا ہے جب ان کے گردے 90 فیصد ناکارہ ہو چکے ہوتے ہیں، جس کے بعد ڈائیلاسز یا گردے کی پیوندکاری ہی واحد حل رہ جاتا ہے۔بلوچستان میں گردوں کے مریضوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ صوبے میں صحت کی سہولیات کی کمی، صاف پانی کی عدم دستیابی، غیر معیاری خوراک اور محدود وسائل کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ دیہی اضلاع میں لوگ ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ معیاری طبی مراکز دستیاب نہیں یا رسائی مشکل ہے۔ کئی اضلاع میں زیر زمین پانی میں فلورائیڈ، آرسینک اور دیگر زہریلے عناصر شامل ہیں، جو گردوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایسے علاقے شامل ہیں: چاغی، نوشکی، خاران، قلات، تربت، جعفر آباد، کوہلو، صحبت پور، بھاگ کچھی، ڈیرہ بگٹی، اوستا محمد، چمن اور گوادر۔خوش قسمتی سے حالیہ برسوں میں حکومت بلوچستان اور امدادی اداروں کی کوششوں سے بلوچستان کے 24 سے زائد اضلاع میں ڈائیلاسز سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں ہزاروں مریضوں کا مفت علاج کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال 23 ہزار سے زائد ڈائیلاسز سیشنز مکمل کیے گئے اور گیارہ ہزار سے زائد مریضوں کو ان کے گھر کے قریب سہولت فراہم کی گئی، جس سے مہنگے سفر کی ضرورت ختم ہوئی۔ سینٹرز میں تربیت یافتہ ڈائیلاسز ٹیکنیشنز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان، وزیر صحت اور سیکریٹری صحت کی نگرانی میں نئے سینٹرز بنائے جا رہے ہیں اور پرانے سینٹرز کی توسیع و مرمت کا کام جاری ہے۔اہم مراکز میں شیخ زاید ہسپتال کوئٹہ، انسٹیٹیوٹ آف نیفرولوجی کوئٹہ اور بے نظیر ہسپتال مری آباد شامل ہیں جہاں ڈائیلاسز اور نیفرولوجی کے مریضوں کو جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس سال وزیر صحت اور سکریٹری صحت کی معاونت سے بلوچستان میں گیارہ نئے ڈائیلاسز سنٹرز قائم کیے جائیں گے، تاکہ مریض اپنے قریبی اضلاع میں ڈائیلاسز کروا سکیں۔ 12 مارچ کو انسٹیٹیوٹ آف نیفرولوجی میں ورلڈ کڈنی ڈے منایا جائے گا، جس میں معلوماتی پروگرام اور گردوں کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے خصوصی کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔گردوں کی بیماری سے بچاؤ کے لیے عوام کو پانی کا مناسب استعمال کرنا چاہیے تاکہ جسم سے زہریلے مادے خارج ہوں۔ شوگر اور بلڈ پریشر پر قابو رکھنا، متوازن خوراک اور باقاعدہ ورزش کرنا، سگریٹ نوشی اور غیر ضروری ادویات سے گریز کرنا، اور سال میں کم از کم ایک بار ابتدائی ٹیسٹ کروانا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بیماری کا بروقت پتہ چل سکے۔یہ اقدامات نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے مالی اور جسمانی بوجھ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور صحت مند بلوچستان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آئیں، گردوں کی حفاظت کریں، صحت مند زندگی اپنائیں اور بلوچستان کو خوشحال بنائیں۔
Comments 0