آئی اے ای اے کی ایران پر جاری امریکااسرائیل حملوں کے دوران فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

آئی اے ای اے کی ایران پر جاری امریکااسرائیل حملوں کے دوران فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل
اقوام متحدہ (اے پی پی):امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے جس پر اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے کے سربراہ نے خطے میں ’’جوہری تحفظ کے لیے بڑھتے خطرے‘‘ کے پیش نظر سفارتکاری کی طرف واپسی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ویانا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ایران کی کسی بھی جوہری تنصیب کو نقصان پہنچا ہو جن میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ، تہران ریسرچ ری ایکٹر اور دیگر نیوکلیئر فیول سائیکل تنصیبات شامل ہیں۔ ادھر جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران خلیجی ممالک نے ایران کی جانب سے مبینہ جوابی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنی خودمختاری کے خلاف اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا اور تہران سے کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ایران پر حملوں کے بعد اب تک تقریباً 700 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے زور دیا کہ صحت کی سہولیات کو جاری تنازع سے محفوظ رکھنا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت لازم ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈہانوم گیبریئسس نے کہا کہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جاری تنازع میں صحت کی سہولیات کو زد میں آنے سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ صحت کی سہولیات بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ ہیں۔ایران نے انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ ملک "اندھا دھند اور جارحانہ” حملوں کی زد میں ہے۔ ایرانی نمائندے علی بحرینی نے دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں سکولوں، ہسپتالوں اور ایرانی ہلال احمر کے ہیڈکوارٹر سمیت متعدد غیر فوجی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ویانا میں آئی اے ای اے بورڈ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں فعال جوہری بجلی گھر اور تحقیقی ری ایکٹر موجود ہیں، اس لیے فوجی کشیدگی کسی جوہری حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ایران سے ملحقہ ممالک میں تابکاری کی سطح معمول پر ہے تاہم انہوں نے تمام فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ گروسی نے نشاندہی کی کہ متحدہ عرب امارات میں چار فعال جوہری ری ایکٹر موجود ہیں جبکہ اردن اور شام میں تحقیقی ری ایکٹرز کام کر رہے ہیں اور خطے کے کئی ممالک کسی نہ کسی شکل میں جوہری ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں، اس لیے صورتحال انتہائی حساس ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.