آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، جنگ کو ’پوتن کے لیے منافع‘ کا باعث نہیں بننے دے سکتے: برطانوی وزیرِ اعظم

آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، جنگ کو ’پوتن کے لیے منافع‘ کا باعث نہیں بننے دے سکتے: برطانوی وزیرِ اعظم
لندن(بی بی سی )برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی پہلی ترجیح خطے میں موجود اپنے شہریوں کی حفاظت ہے۔سوموار کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب تک 92٫000 برطانوی شہریوں کو واپس لایا جا چکا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس بڑی جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ یہ تو واضح ہے کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی حکومت کی فوجی صلاحیتیں ’بہت کمزور‘ ہوئی ہیں۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ تنازعے کے اختتام کے بعد ایران کو جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے سے روکنے اور بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے کسی نہ کسی قسم کے ’معاہدے‘ کی ضرورت ہو گی۔ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت ہے تاہم ’یہ کوئی آسان کام نہیں‘۔برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ برطانیہ خطے میں جہازوں کے آزادانہ نقل و حمل کو بحال کرنے کے لیے ایک ’قابل عمل منصوبہ‘ لانے کے لیے اپنے ’تمام اتحادیوں‘ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔سٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کرنا کسی بھی وزیر اعظم کے لیے سب سے مشکل کام ہے۔برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ آج صبح ان کی کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ جلد ہی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یوکرین کی حمایت پر توجہ مرکوز رکھیں۔سٹارمر نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کو ’پوتن کے لیے منافع‘ کا باعث بننے نہیں دیا جا سکتا۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.