ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی طرف سے مزید معلومات سامنے آ رہی ہیں، جو آج صبح بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز سے بات کر رہے تھے۔
بی بی سی کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ جو ممالک آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ چاہتے ہیں ایران ان سے ’بات کرنے کو تیار‘ ہے۔ خیال رہے آبنائے ہرمز میں اس وقت سمندری ٹریفک ایرانی حملوں کے سبب بالکل رُک چکا ہے۔کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ’کئی ممالک آئے ہیں‘ جو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ چاہتے ہیں۔ایران کے جوہری مراکز ملبے تلے دبے ہیں اور ’فی الحال ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں اور نہ ہی ان کی دوبارہ بحالی کا کوئی منصوبہ ہے۔‘ایرانی وزیرِ خارجہ مزید کہتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر بات چیت جاری تھی، تو ایران نے پیشکش کی تھی کہ ’افزودہ مواد کی شرح کو کم کر دیا جائے گا۔‘وہ کہتے ہیں: ’یہ ایک بہت بڑی رعایت تھی۔ تنازع نے صورتِ حال بدل دی ہے: اب میز پر کچھ نہیں ہے، سب کچھ مستقبل پر منحصر ہے۔‘
Comments 0