کیف۔24دسمبر (اے پی پی):یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لئے 20 نکاتی امن منصوبے کا مسودہ پیش کر دیا ۔ تاس کے مطابق یوکرینی صدر نے بدھ کو صحافیوں کو بریفنگ کے دوران اس منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ مسودہ بڑی حد تک یوکرین اور امریکا کے مشترکہ موقف کی عکاسی کرتا ہے جبکہ کئی اہم مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔سب سے زیادہ متنازعہ دفعات میں زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق تجویز شامل ہے، جو اس وقت مکمل طور پر روسی افواج کے زیر کنٹرول ہے۔ یوکرینی حکومت چاہتی ہے کہ یہ پلانٹ یوکرین اور امریکا مشترکہ طور پر 50-50 کی بنیاد پر چلائیں جبکہ امریکی حکومت کے مجوزہ سہ فریقی انتظام میں روس بھی شامل ہے۔
منصوبے میں شامل ایک آپشن کے تحت روسی افواج کو یوکرین کے خارکوف، دنیپروپیٹروسک، سومی اور نکولائیف علاقوں سے انخلا کرنا ہو گا جبکہ روس کے ڈونیٹسک، لوگانسک، زاپوروزئے اور کھیرسون کے علاقوں میں موجودہ فرنٹ لائنز کے ساتھ جنگ کو منجمد کرنا ہوگا۔اس منصوبے میں یوکرین سے مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امن کے وقت میں 800,000 اہلکاروں کی مسلح فورس کو برقرار رکھے، باوجود اس کے کہ زیلنسکی نے پہلے تسلیم کیا تھا کہ یوکرینی حکومت درحقیقت مغربی فنانسنگ کے بغیر اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
زیلنسکی نے امریکا ، نیٹو اور یورپی ریاستوں سے "آرٹیکل 5 جیسی” حفاظتی ضمانتوں کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں مغربی فوجی ردعمل کا وعدہ بھی شامل ہے ۔اس تجویز کے تحت، یوکرین غیر جوہری حیثیت سے اتفاق کرے گا لیکن اسے یورپی یونین کی رکنیت میں تیزی لانے اور 800 بلین ڈالر تک کے بڑے پیمانے پر تعمیر نو کے فنڈز کی توقع ہے۔زیلنسکی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد جلد از جلد انتخابات کرائے جائیں گے۔ روسی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے یوکرین کی حکومت کا جائز ہونا ضروری ہے تاہم یوکرینی صدر کے منصوبے کے مطابق تمام فریقین کے فریم ورک پر متفق ہونے کے بعد ہی مکمل جنگ بندی عمل میں آئے گی۔
Comments 0