بلوچستان ہائی کورٹ کے رجسٹرار ناصر خان یوسف زئی نے کہا ہے کہ قانون کے طالب علم اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ وکالت کے شعبے میں معمولی غلطیاں بھی نئے آنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں اور سائلین کے وقت کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے زیر اہتمام ایشیا فانڈیشن کے اشتراک سے بیوٹمز یونیورسٹی سٹی کیمپس میں منعقدہ لا اِن پریکٹس کیریئر فیئر کے عنوان سے تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ناصر خان یوسف زئی نے کہا کہ ایک وکیل دراصل ایک لیڈر ہوتا ہے اور کامیابی صرف کیس جیتنے تک محدود نہیں بلکہ دوسروں کی مدد کرنا اور پیشہ ورانہ دیانتداری بھی کامیابی کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وکلا کو ہمیشہ خود کو جدید علوم اور قانونی تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ رکھنا چاہیے تاکہ وہ اپنے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نئے آنے والے وکلا کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جائے گی۔اس موقع پر کنسلٹنٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل محمد قاسم خان مندوخیل نے طلبہ کو عملی میدان کے تقاضوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت اور تحقیق نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ انٹرن شپ اور ریسرچ کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ماہر کارپوریٹ سیکٹر ایمل خان کاکڑ ایڈووکیٹ نے کارپوریٹ لا میں موجود مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو نئے ابھرتے ہوئے شعبوں پر توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ بدلتے ہوئے قانونی ماحول میں اپنی جگہ بنا سکیں۔خاتون وکیل انم خیر ایڈووکیٹ نے خواتین وکلا کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محنت، اعتماد اور مستقل مزاجی کے ذریعے خواتین اس شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔تقریب میں فضل باری ایڈووکیٹ بھی موجود تھے، جبکہ مقررین نے طلبہ کو عملی زندگی میں کامیابی کے لیے رہنمائی فراہم کی۔
Comments 0