نیشنل پارٹی آزادیِ اظہارِ رائے پر مکمل یقین رکھتی ہے : سینیٹر جان محمد بلیدی

نیشنل پارٹی آزادیِ اظہارِ رائے پر مکمل یقین رکھتی ہے : سینیٹر جان محمد بلیدی
تربت۔ سینیٹ میں نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر جان محمد بلیدی نے بدھ کے روز تربت پریس کلب کے صحافیوں کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ پر پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا، جس میں تربت پریس کلب کے نائب صدر ارشاد اختر، جنرل سیکرٹری نور شاہ نور، سابق صدر طارق مسعود، مقبول ناصر، اسد بلوچ، ایاز اسلم، پلان خان، الطاف بلوچ، زاہد حسین دشتی، یلان زامرانی سمیت دیگر صحافیوں نے شرکت کی، جبکہ آل پارٹیز کیچ کے ڈپٹی کنوینر فدا جان بلیدی اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر علاقائی سیاسی صورتحال، بلوچستان کے مجموعی حالات، صحافت کے کردار، بلیدہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے تربت پریس کلب سے وابستہ صحافیوں کی غیرجانبدارانہ اور ذمہ دارانہ صحافت کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی آزادیِ اظہارِ رائے پر مکمل یقین رکھتی ہے اور ایک آزاد، خودمختار اور بااصول صحافت ہی معاشرے میں شعور، احتساب اور جمہوری روایات کے فروغ کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربت پریس کلب نے ہمیشہ مشکل حالات کے باوجود سچائی، عوامی مسائل اور اجتماعی مفاد کی آواز بلند کی ہے جو قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل پارٹی کے قائد ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تربت پریس کلب کیلئے نئی بلڈنگ منظورکرائی ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ ڈیجیٹل اسٹوڈیو کیلئے ایم این اے پھلین بلوچ نے بھی فنڈز جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی جمہوریت، شفاف سیاسی عمل اور عوام کو آزادانہ حقِ رائے دہی دئیے بغیر بلوچستان میں پائیدار امن اور استحکام ممکن نہیں۔ عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حقوق سے محروم رکھنے کی وجہ سے بے چینی اور احساسِ محرومی شدت اختیار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات کی بہتری کی صورت میں جنگی منافع خوروں، مفاد پرست عناصر اور کرپشن سے فائدہ اٹھانے والوں کیلئے جگہ نہیں بچے گی، اسی لیے بعض عناصر دانستہ طور پر حالات کو خراب رکھنا چاہتے ہیں۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی شمولیت، مقامی رائے اور زمینی حقائق کو نظرانداز کرکے بنائی گئی کوئی بھی پالیسی دیرپا اور مؤثر ثابت نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ بلیدہ میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے بدعنوانی اور ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہورہے ہیں۔ قومی خزانے کو عوامی فلاح، بنیادی سہولیات اور پائیدار ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے لوٹ مار کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کے فنڈز خرچ ہونے کے باوجود بلیدہ میں آج تک ایک کلومیٹر معیاری سڑک بھی موجود نہیں، جو متعلقہ اداروں اور حکام کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلیدہ سمیت پورے ضلع کیچ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا شفاف آڈٹ کیا جائے اور عوام کے وسائل لوٹنے والوں کا سخت احتساب کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.