دبئی۔ (اے پی پی):دبئی نے مصنوعی ذہانت اور بڑے ڈیٹا کے تجزیاتی نظام کے ذریعے سڑکوں کے انتظام میں انقلابی تبدیلی لاتے ہوئے پیشگی بنیادوں پر نگرانی کا جدید نظام متعارف کرایا ہے، جس کے نتیجے میں سڑکوں پر سفر کے معیار میں 96.65 فیصد کارکردگی کے ساتھ عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہوا ہے، جو پائیدار نقل و حرکت اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے اہداف کی براہ راست تکمیل کر رہا ہے۔ اماراتی خبر رساں ادارہ ’’وام‘‘ کے مطابق یہ مربوط حکمت عملی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس کے ذریعے ٹریفک میں خلل ڈالے بغیر سڑکوں کی نگرانی کی جاتی ہے، اس مقصد کے لیے لیزر پر مبنی دراڑوں کی نشاندہی کرنے والے نظام اور بین الاقوامی روفنیس انڈیکس (آئی آر آئی) کی پیمائش کرنے والے خصوصی آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حاصل شدہ ڈیٹا پیومنٹ مینجمنٹ سسٹم (پی ایم ایس) میں منتقل کیا جاتا ہے، جو حقیقی وقت میں سڑکوں کی صورتحال کا جائزہ لے کر بروقت اور پیشگی بنیادوں پر مرمت کے شیڈول تیار کرتا ہے۔
ان ٹیکنالوجیز کے انضمام سے بنیادی ڈھانچے کے معیار، تحفظ اور عملی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ابتدائی مرحلے پر خرابیوں کی نشاندہی اور بروقت مداخلت کے باعث سڑکوں کی خرابی کو بڑھنے سے روکا گیا ، ان اقدامات کے نتیجے میں ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری آئی اور ڈرائیونگ کمفرٹ انڈیکس 89 فیصد تک پہنچ گیا۔ان اقدامات کے ساتھ ساتھ ’’آئی ٹریفک‘‘ نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو حقیقی وقت کے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے ٹریفک کے بہاؤ کی پیشگوئی کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والا یہ نظام ٹریفک کے دباؤ کی صورت میں فوری ردعمل فراہم کرتا ہے اور سمارٹ سائن بورڈز کے ذریعے فوری رہنمائی فراہم کر کے سفر کو آسان بناتا ہے۔یہ کامیابیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور بڑے ڈیٹا کا مؤثر انضمام جدید سڑکوں کے انتظام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ کارکردگی، پائیداری اور تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے دبئی نے ایک بار پھر انفراسٹرکچر کے معیار اور سمارٹ شہری نقل و حرکت میں اپنی عالمی قیادت کو مضبوط کیا ہے۔
Comments 0